.

امریکی صدر ٹرمپ کا عالمی ادارۂ صحت کی امداد روکنے کا اعلان

امریکا ڈبلیو ایچ او کو سالانہ 50 کروڑ ڈالر امداد دیتا ہے جو ادارے کے کل بجٹ کا 15 فی صد بنتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کرونا وائرس بحران میں اس ادارے نے انتہائی بدنظمی کا مظاہرہ کیا اور اس کے پھیلاؤ کو چھپایا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے ڈبلیو ایچ او کو مالی امداد روکنے کے امریکی فیصلے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایسے اقدامات کرنے کا وقت نہیں ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس کے حوالے معمول کی بریفنگ کے دوران ڈبلیو ایچ او کے لیے مالی امداد روکنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، ”میں اپنی انتظامیہ کو ہدایت کر رہا ہوں کہ وہ عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روک دیں اور ڈبلیو ایچ او کے کردار کا جائزہ لیں جس نے انتہائی بد انتظامی کی اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو چھپایا ۔ ڈبلیو ایچ او اپنا بنیادی فرض ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کا احتساب ہونا چاہیے۔“

کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً بیس لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ سوا لاکھ سے زیادہ لوگوں کو موت ہوچکی ہے۔ ان میں چھ لاکھ مریضوں اور 26 ہزار ہلاکتوں کا تعلق امریکا سے ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کی نااہلی کی وجہ سے دنیا میں کرونا وائرس کے کیسیز بیس گنا بڑھ گئے۔ چین پر سفری پابندیاں لگانے کے ان کے مطالبے کی ڈبلیو ایچ او نے نکتہ چینی کی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا ”دنیا میں ہر طرح کی غلط معلومات پہنچائیں گئیں جس میں معلومات اور ہلاکتوں کے بارے میں غلط اطلاعات شامل تھیں۔ اگر ڈبلیو ایچ او چین میں جا کر اس وبا کا جائزہ لیتا تو زیادہ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔“

امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت پر الزام لگایا کہ اس نے زندگیاں بچانے سے زیادہ سیاسی بنیادوں پر فیصلے کیے اور وبا کے بارے میں چین کے دعووں کو ہی تسلیم کیا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے صدر ٹرمپ کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت یا دیگر کسی ایسی انسانی تنظیم کو دی جانے والی مالی امداد اور دیگر وسائل کو روکنے کا یہ وقت نہیں ہے، جو کرونا وائرس کی عالمی وبا کے خلاف جنگ لڑرہی ہیں۔

انتونیو گوٹیریس نے ایک بیان میں کہا”میرا یہ یقین ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی ہر طرح سے مدد کی جانی چاہیے۔ کیوں کہ ایسا کرنا عالمی برادری کی طرف سے کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔“

امریکا ڈبلیو ایچ او کو سالانہ 50 کروڑ ڈالر فراہم کرتا ہے جو ادارے کے کل بجٹ کا تقریباً 15 فیصد ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کی رقم روک کر ان چیزوں پر خود خرچ کریں گے جہاں اس کی ضرورت ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ کرونا وائرس کو روکنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات نہیں کرنے کے سلسلے میں صدر ٹرمپ خود تنقید کی زد میں ہیں، تاہم ٹرمپ اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے حسب ضرورت فیصلے کیے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ لاک ڈاون ختم کرنے کے حوالے سے اس ہفتے گائیڈ لائنس جاری کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ کچھ ریاستیں یکم مئی سے پہلے ہی کھل جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کو دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں ہر ریاست کے گورنر کو خود ذمہ داری لینی ہوگی اور جو ریاستیں کم متاثرہ ہیں انہیں سب سے پہلے کھولا جائے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ لاک ڈاون کو ختم کرنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور ریاستوں کے گورنروں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ وہ تمام ریاستوں کی صورت حال پر سخت نگاہ رکھیں گے۔