.

کرونا وائرس پر موسم کے اثر انداز ہونے کی ابھی تک کوئی دلیل نہیں : تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے موسمی عوامل کے کرونا وائرس پر اثرا نداز نہ ہونے کے حوالے سے ایک تحقیقی مطالعہ جاری کیا ہے۔ یونیورسٹی نے باور کرایا ہے کہ "ابھی تک اس بات کی کوئی نمایاں دلیل نہیں کہ گرم یا سرد موسم کرونا وائرس پر اثر انداز ہوتا ہے"۔

تحقیقی مطالعے میں نصیحت کی گئی ہے کہ سماجی فاصلے کی پابندی کرنے کی ضرورت ہے اور وائرس پر قابو پانے کے لیے گرم موسم کا انتظار نہ کیا جائے۔

دوسری جانب چین کے اخبار "چائنا ٹوڈے" کے مطابق چینی طبی سوسائٹی کی محققہ تینگ چن کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ کرونا وائرس بھی اپنی سرگرمیوں سے زیادہ بڑے پیمانے پر محروم ہو جاتا ہے۔ محققہ کے مطابق یہ وائرس درجہ حرارت بڑھنے پر اپنی قوت کھو دیتا ہے۔ اس حوالے سے 56 ڈگری سینٹی کرونا کی سرگرمی میں بھرپور اور تیز کمی کے حوالے سے بہترین درجہ حرارت ہے۔

چین میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مطالعے میں کرونا وائرس کے 44 ہزار کیسوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ 80% سے زیادہ متاثرین کا مرض معمولی نوعیت کا ہے اور وہ صحت یاب ہو رہے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق 14% مریض پھیپھڑوں کی سوزش جیسی خطرناک بیماریوں کا شکار ہیں۔ تقریبا 5% مریضوں کا کیس انتہائی خطرناک بیماریوں میں تبدیل ہو رہے ہیں مثلا نظام تنفس کا ناکارہ ہو جانا یا Septic Shockوغیرہ .. البتہ 2% کیسوں میں یہ وائرس مہلک ثابت ہوتا ہے۔ عمر رسیدہ ہونے پر وائرس سے متاثرہ افراد کی وفات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔