.

ایرانی پاسداران انقلاب کی جنگی کشتیاں خطرے اور اشتعال انگیزی کا باعث ہیں: امریکی بحریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ خلیج عربی کے شمال میں بین الاقوامی پانی کے اندر ایرانی جنگی کشتیوں کی سرگرمیاں "خطرناک اور اشتعال انگیز" ہیں۔

بدھ کی شب جاری ایک بیان میں امریکی فوج نے کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی 11 جنگی کشتیوں نے خلیج میں امریکی بحری جہازوں کے قریب آنے اور خطرناک حد تک ہراس کی کارروائیاں کیں۔ بیان میں انکشاف کیا گیا کہ "ایرانی کشتیاں امریکی کوسٹ گارڈز کے زیر انتظام بحری جہاز سے 10 گز کی مسافت تک آ پہنچی تھیں"۔

واشنگٹن اور تہران کے بیچ کشیدگی کے سائے میں گذشتہ چند برسوں کے دوران خلیج میں ایرانی مسلح کشتیوں کے امریکی بحری جنگی جہازوں کے نزدیک آنے کا منظرنامہ کئی بار دیکھا گیا۔

رواں ماہ کے اوائل میں ایرانی رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے کہا تھا کہ ایران اور امریکا غیر معمولی شکل میں جنگ کے نزدیک ہو رہے ہیں۔

تہران اور واشنگٹن دونوں کی جانب سے عراق میں امریکی افواج اور ایران نواز ملیشیاؤں کے درمیان تصادم کے امکان کے حوالے سے خبردار کیا جانا سامنے آیا۔

بعد ازاں مذکورہ ملیشیاؤں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے امریکی فورسز کے حرکت میں آنے کے سبب ایرانی وزارت خارجہ ایک بیان جاری کرنے پر مجبور ہو گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات کا نتیجہ خطے میں "آفت ناک عدم استحکام" کی صورت میں سامنے آئے گا۔

کچھ عرصہ قبل امریکا نے اپنی فورسز کے ایک حصے کو عراق کے بعض فوجی اڈوں سے منتقل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے فضائی دفاع سے متعلق پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی تعداد میں اضافہ بھی کیا۔

حالیہ دنوں میں امریکی ذرائع نے باور کرایا کہ پینٹاگان ایران کی حلیف عراقی ملیشیاؤں بالخصوص عراقی حزب اللہ بریگیڈز سے ممکنہ انتقام کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتائی۔