.

ٹرمپ کا عالمی ادارہ صحت کی امداد روکنے کا اعلان انتہائی خطرناک ہے:بل گیٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مائیکروسافٹ کمپنی کے بانی اور امریکی ارب پتی بل گیٹس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی امداد روکنے کے اعلان پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا ڈبلیو ایچ او کے بارے میں اعلان انتہائی خطرناک ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بل گیٹس نے 'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی ایک ایسے وقت میں امداد بند کرنا جب پوری دنیا کرونا کے خلاف لڑ رہی ہے انتہائی خطرناک اور تشویشناک ہے۔ امریکی صدر کے اعلان سے 'کرونا' کے خلاف 'ڈبلیو ایچ او' کی کوششیں مزید کمزور ہوسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ جنوری میں بل گیٹس نے عالمی ادارہ صحت کو کرونا کی ویکسین کی تیاری اور دیگر وبائی امراض سے روک تھام کے لیے ایک سو ملین ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔

گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کرونا وائرس بحران میں اس ادارے نے انتہائی بدنظمی کا مظاہرہ کیا اور اس کے پھیلاؤ کو چھپایا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے ڈبلیو ایچ او کو مالی امداد روکنے کے امریکی فیصلے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایسے اقدامات کرنے کا وقت نہیں ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس کے حوالے معمول کی بریفنگ کے دوران ڈبلیو ایچ او کے لیے مالی امداد روکنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، ”میں اپنی انتظامیہ کو ہدایت کر رہا ہوں کہ وہ عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روک دیں اور ڈبلیو ایچ او کے کردار کا جائزہ لیں جس نے انتہائی بد انتظامی کی اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو چھپایا ۔ ڈبلیو ایچ او اپنا بنیادی فرض ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کا احتساب ہونا چاہیے۔“

کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً بیس لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ سوا لاکھ سے زیادہ لوگوں کو موت ہوچکی ہے۔ ان میں چھ لاکھ مریضوں اور 26 ہزار ہلاکتوں کا تعلق امریکا سے ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کی نااہلی کی وجہ سے دنیا میں کرونا وائرس کے کیسیز بیس گنا بڑھ گئے۔ چین پر سفری پابندیاں لگانے کے ان کے مطالبے کی ڈبلیو ایچ او نے نکتہ چینی کی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا ”دنیا میں ہر طرح کی غلط معلومات پہنچائیں گئیں جس میں معلومات اور ہلاکتوں کے بارے میں غلط اطلاعات شامل تھیں۔ اگر ڈبلیو ایچ او چین میں جا کر اس وبا کا جائزہ لیتا تو زیادہ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔“

امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت پر الزام لگایا کہ اس نے زندگیاں بچانے سے زیادہ سیاسی بنیادوں پر فیصلے کیے اور وبا کے بارے میں چین کے دعووں کو ہی تسلیم کیا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے صدر ٹرمپ کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت یا دیگر کسی ایسی انسانی تنظیم کو دی جانے والی مالی امداد اور دیگر وسائل کو روکنے کا یہ وقت نہیں ہے، جو کرونا وائرس کی عالمی وبا کے خلاف جنگ لڑرہی ہیں۔