.

کرونا وائرس :دبئی میں لاک ڈاؤن سخت،اشیائے ضروریہ کی خریداری کی تین دن بعد اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے اور مجاز اجازت ناموں کے بغیر لوگوں کی نقل وحرکت پر مزید قدغنیں عاید کردی ہیں۔

دبئی حکومت کی اجازت ناموں سے متعلق ویب سائٹ کے مطابق اب اشیائے ضروریہ کی خریداری یا دوا خانوں پر تین روز میں صرف ایک مرتبہ جانے کی اجازت ہوگی۔شہری پانچ دن میں صرف ایک مرتبہ اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانے کے لیے جاسکیں گے۔ایمرجنسی کی صورت میں ایک دن میں صرف دو مرتبہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔

دبئی حکومت نے مارچ کے آخر میں نقل وحرکت کے اجازت ناموں کا نظام متعارف کرایا تھا اور بعد میں خلاف ورزی کی صورت میں جرمانوں کا اس میں اضافہ کیا تھا۔ اس امارات میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ ہے اورلوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی عاید ہے۔

دبئی پولیس نے جمعرات کو ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ اگر ماضی میں اجازت نامے کے لیے دی گئی درخواست زاید المیعاد نہیں ہوئی ہے تو اضافی اجازت ناموں کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کردیا جائے گا۔

دبئی میں 24 گھنٹے کے لاک ڈاؤن کی میعاد آیندہ دو روز میں ختم ہونے والی ہے اور امارات ائیرلائنز نے بعض شہروں کے لیے اپنی پروازیں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیز ایسے اشارے ملے ہیں کہ یو اے ای کی حکومت مارچ سے لوگوں کی نقل وحرکت اور سماجی اجتماعات پر عاید پابندی میں نرمی پر غور کررہی ہے۔

تاہم یو اے ای میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔دبئی کے محکمہ سیاحت اور تجارتی مارکیٹنگ ( ڈی ٹی سی ایم) نے بدھ کی شب ایک سرکلر جاری کیا تھا اور اس میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ریستوران ، بار اور ہوٹل تاحکم ثانی بند رہیں گے۔ان پر مزید سخت قدغنیں عاید کردی گئی ہیں۔

یو اے ای کی وزارت صحت نے بدھ تک کرونا وائرس کے 5365 کیسوں کی تصدیق کی تھی۔ان میں 33 وفات پا چکے ہیں جبکہ 1034 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

دبئی نے اس ماہ کے اوائل میں کرونا وائرس کو پھیلنے سےروکنے کے لیے تجارتی سرگرمیوں میں جاری عارضی تعطل میں 18 اپریل تک توسیع کردی تھی۔اس نے گذشتہ ماہ سے امارت میں تمام تجارتی سرگرمیاں معطل کررکھی ہیں۔صرف اشیائے ضروریہ اور ادویہ فروخت کرنے والی سپر مارکیٹیں اور دواخانے کھلے ہیں جبکہ بار ،مال اور تجارتی سرگرمیوں کو بند رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔