.

کرونا وائرس : سعودی عرب میں گذشتہ 24 گھنٹے میں مزید چار اموات، 59 مریض صحت یاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے چار مزید افراد دم توڑ گئے ہیں۔اس مہلک وَبا سے وفات پانے والوں کی تعداد 83 ہوگئی ہے۔سعودی وزارت صحت نے کرونا وائرس کے 518 نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے جس کے بعد ملک میں کل کیسوں کی تعداد 6380 ہوگئی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ وفات پانے والے چاروں افراد غیر سعودی ہیں۔ ان کی عمریں 35 سے 89 سال کے درمیان تھیں اور وہ پہلے بھی مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔

وزارتِ صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد عبدالعالی نے بتایا ہے کہ مہلک وائرس کے مزید 59 تصدیق شدہ کیس صحت یاب ہو گئے ہیں اور اب تن درست ہونے والوں کی تعداد 990 ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن چھے ممالک میں کرونا وائرس کے کیسوں کی 15 ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے۔ان ممالک نے اس مہلک وَبا پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور شہروں میں 24 گھنٹے کا لاک ڈاؤن یا کرفیو نافذ کررکھا ہے۔

خطے میں سعودی عرب میں اب تک کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہ جی سی سی کے رکن ممالک میں آبادی اور رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک ہے۔اس کی آبادی تین کروڑ 47 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہے اور اس طرح کے ہاں آباد نفوس کی تعداد جی سی سی کے دوسرے پانچ ممالک سے زیادہ ہے۔مملکت میں اب تک کرونا وائرس کے ہر دس لاکھ میں سے 184 کیس سامنے آئے ہیں۔

سعودی حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ کے دوران میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن سمیت کئی ایک سخت اقدامات کیے ہیں۔

سعودی عرب نے 6 اپریل کو دارالحکومت الریاض سمیت پانچ شہروں تبوک ، الدمام ، ظہران ، الہفوف کے علاوہ چار گورنریوں جدہ ، طائف ، القطیف اور الخُبر میں دن رات کا کرفیو اور لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پہلے ہی 24 گھنٹے کا کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن نافذ تھا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مملکت میں کرونا وائرس سے متاثرہ تمام افراد کے بلا تفریق علاج کا حکم دیا ہے۔ ان میں سعودی شہری ، غیرملکی تارکین وطن اور ویزوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود مملکت میں عارضی قیام پذیر غیرملکی افراد بھی شامل ہیں۔