.

امریکا میں حفاظتی ماسک کی پابندی نہ کرنے پر فائرنگ کی دھمکی کس نے دی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست فلوریڈا میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس شخص نے اپنے علاقے کے تجارتی مرکز میں اجتماعی فائرنگ پر عمل کی دھمکی دی تھی۔ اس لیے کہ مذکورہ شخص کے خیال میں وہاں کے بہت سے گاہک کرونا سے بچاؤ کے لیے ضروری حفاظتی ماسک پہننے کی پابندی نہیں کر رہے ہیں۔

پولیس نے 62 سالہ روبرٹ کوونر کو حراست میں لے لیا۔ اس نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں دھمکی دی تھی کہ چوں کہ گاہکوں کی تھوڑی تعداد چہروں پر حفاظتی ماسک کا اہتمام کر رہی ہے لہذا وہ اپنے علاقے میں واقع بیبلیکس اسٹور میں فائرنگ کر کے اپنے پاس موجود آخری گولی تک استعمال کر لے گا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ "کیا یہ معاملہ اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ اپنا پیغام پہنچانے کے لیے گاڑیوں کی پارکنگ میں تم جیسے بعض حقیر ہٹ دھرموں پر فائرنگ کی جائے؟"

مقامی پولیس کے مطابق "یہ وقت اعصابی تناؤ کا ہے مگر اس طرح کی دھمکیاں دینے کے حوالے سے کوئی عذر موجود نہیں ہے ... یہ ایک جرم ہے اور ہم اس کو سنجیدگی سے لیں گے۔ جو کوئی اس طرح کی حرکت کرے گا وہ جیل جائے گا"۔

فلوریڈا کی ریاست میں کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں عوامی مقامات پر چہرے کے ماسک استعمال کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

ریاست میں اب تک 24 ہزار سے زیادہ افراد کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اس وبائی مرض سے 680 افراد موت کی نیند سو چکے ہیں۔

پولیس نے روبرٹ کوونر پر فائرنگ کرنے کی دھمکی سے متعلق الزام عائد کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اسے ہتھیار ضبط کر کے 30 ہزار ڈالر کی مالی ضمانت کے عوض رہا کر دیا گیا۔