.

مصر میں کرونا سے متاثر ہونے والے عمر رسیدہ شہری کا قصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ کرونا کی وباء کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی خبریں چھائی ہوئی ہیں مگر اکیس لاکھ متاثرین میں بڑی تعداد میں ایسے مریض بھی ہیں جو صحت یاب ہوئے ہیں۔ ان میں کئی عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے اس مہلک وباء کو شکست دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ کرونا خطرناک ضرور ہے مگر ناقابل شکست نہیں۔

کرونا کو شکست دینے والے بزرگ لوگوں میں مصر کے عبدالفتاح بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں نے ان کے زندہ بچ جانے کی امید چھوڑ دی تھی مگر عبدالفتاح کو ایک نئی زندگی ملی اوراس نے دوسرے مریضوں کو بھی امید کی ایک نئی کرن دکھائی ہے۔

اسپتال میں لائے جانےکے بعد عبدالفتاح کے ڈاکٹر اس کےزندہ بچنے کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں تھے۔ انہیں یہ خدشہ تھا کہ عبدالفتاح اس بیماری کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے مگر وہ حیران کن طورپر اس بیماری سے بچ نکلے۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ 'موت اور زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے، وائرس محض ایک وجہ ہے۔'

گذشتہ ہفتے 88 سالہ عبدالمنعم عبداللہ نامی ایک شہری کرونا کی بیماری سے صحت یاب ہوئے۔ عبداللہ کی صحت یابی کے دو روز بعد 89 سالہ عبدالفتاح بھی کرونا سے صحت یاب ہوگئے۔ دونوں جنوبی مصر کی الاقصر گورنری کے اسنا اسپتال میں زیرعلاج تھے۔

اسپتال کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر ولید عمر الضوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا عبدالفتاح اسماعیل الحامدی جسے الاقصر میں ٹور گائیڈ کہا جاتا ہے صحت یاب ہونے کے بعد اسپتال سے گھر منتقل کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصری بزرگ شہری عبدالفتاح کرونا وائرس سے متاثرہونے کے بعد اسپتال پہنچے۔ اسپتال میں آنے کے بعد ان کی طبی حالت مسلسل خراب ہوتی رہی۔ وہ انتہائی ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ سخت بخار کا شکار رہے۔

تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ میڈیکل ٹیم نےعبدالفتاح الحامدی کی جان بچانے کی پوری کوشش کی۔ طبی عملے کو یقین ہے کہ یہ کیس مشکل اور پیچیدہ تھا اور اس میں مریض کے بچنےکے امکانات کم تھے۔ عمر رسیدگی کی وجہ سے طبی عملے کے ارکان مایوس تھے اور مگر وہ حیران طورپر بہتر ہوتا گیا۔ اس نے طبی عملے کے ارکان کا خندہ پیشانی کے ساتھ سامنا کیا۔

اسپتال تعلقات کے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ جب میڈیکل ٹیم نے مریض کا معائنہ کیا تو مریض کرونا کے سخت حملے کا سامنا کر رہا تھا اور بڑھاپے کی وجہ سے اس میں قوت مدافعت کم زور تھی۔

تاہم آخری بار مریض کی میڈیکل ٹیسٹ رپورٹ نے ڈاکٹروں کو بھی حیران کردیا کہ جس مریض کے زندہ بچنے کی امید نہیں تھی وہ نہ صرف زندہ بچ گیا ہے بلکہ اس نے کرونا جیسے موذی مرض کو بھی شکست دے دی ہے۔