.

کرونا وائرس: سعودی عرب میں ایک دن میں ریکارڈ 1132 نئے کیس ،پانچ افراد کی وفات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 1132 نئے کیسوں اور پانچ اموات کی تصدیق کی ہے۔سعودی وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق اب مملکت میں اس مہلک وبا کا شکار افراد کی تعداد 8274 ہوگئی ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبدالعالی نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کا شکار ایک 34 سالہ سعودی شہری دم توڑ گیا ہے اور چار متوفیٰ غیرملکی ہیں۔ ان کی عمریں 45اور 80 سال کے درمیان تھیں۔

وزارت صحت گذشتہ ہفتے تک سعودی عرب میں کرونا وائرس کے روزانہ قریباً پانچ سو کیسوں کی اطلاع دے رہے تھی لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایک دن میں اس مہلک وَبا کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد دُگنا ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر محمد العبدالعالی نے اس کی وضاحت یہ کی ہے کہ اب مملکت بھر میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا عمل تیز کردیا گیا ہے اور 79 فی صد نئے کیسوں کی تشخیص فیلڈ ٹیسٹنگ مہم کے دوران میں کی گئی ہے۔اس عوامی رابطہ مہم کے دوران میں طبی ٹیمیں گنجان آباد علاقوں میں لوگوں کے گھروں میں جارہی ہیں اور ان کے ٹیسٹ کررہی ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ طبی ٹیمیں بالخصوص مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی آبادیوں میں کرونا وائرس کی سکریننگ کررہی ہیں۔ٹیسٹوں کی صلاحیت میں اضافہ ایک پیشگی حفاظتی اقدام ہے۔اس سے متاثرہ افراد کی بالکل ابتدا ہی میں تشخیص میں مدد مل سکتی ہے اور یوں انھیں الگ تھلگ کرکے ان کےعلاج کا عمل شروع کردیا جاتا ہے۔

سعودی عرب میں اب تک گنجان آباد علاقوں میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں۔ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں مزدور طبقہ زیادہ تعداد میں رہ رہا ہے۔

احتیاطی اقدامات

سعودی عرب نے کرونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے کئی ایک سخت انتظامی اقدامات کیے ہیں۔سعودی مفتیِ اعظم نے ایک روز قبل جمعہ کو کہا ہے کہ رمضان المبارک میں لوگوں کو نمازِ تراویح مساجد کے بجائے اپنے اپنے گھروں ہی میں ادا کرنی چاہیے اور ماہ صیام کے بعد وہ عید الفطر کی نماز بھی گھروں میں ادا کریں۔

انھوں نے رمضان کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل یہ اعلان کیا ہے۔سعودی عرب نے پہلے ہی مساجد میں پنجہ وقت نمازوں کی باجماعت ادائی پر پابندی عاید کررکھی ہے۔حکومت نے دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر اپنے حج اور عمرے کے ارادے کو فی الحال مؤخر کردیں۔اس نے اسلامی ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے حج انتظامات کو ابھی حتمی شکل نہ دیں۔