.

کرونا کے علاج اور بیماری کے پھیلائو کے بارے میں چند غلط فہمیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی بھی عالمی وباء کی طرح کرونا وائرس کے سامنے آنے کے بعد اسے منسلک من گھڑت کہانیاں، غلط فہمیاں اور خرافات بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ ایک طرف عالمی ماہرین اس وباء کی روک تھام کے لیے ویکسین کی تیاری پر جنگی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں اور دوسری طرف ضعیف الاعتقادی بھی اپنے نطقہ کمال پر ہے۔ بعض لوگ سستی شہرت کے لیے انسداد کرونا کی خاطر طرح طرح کے ٹونے ٹوٹکے پیش کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کرونا وائرس سے منسلک ایسی ہی بعض خرافات اور غلط فہمیوں کی تفصیل بیان کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر اس وقت کرونا کے علاج کے لیے بہت کچھ چل رہا ہے مگر اس حوالے سے صرف وہی بات قابل قبول ہوگی جسے عالمی سطح پر ماہرین یا عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تصدیق کی جائے گی۔

کرونا کے علاج کے حوالے سے پھیلنے والی من گھڑت کہانیوں میں ایک حالیہ ایام میں مشہور ہوئی کہ شراب پینے سے یہ بیماری دور ہوسکتی ہے مگر شراب کے بارے میں ماہرین پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ یہ کسی بیماری کا علاج نہیں بلکہ اس سے کئی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے ایسے کسی ٹوٹکے پرعمل نہ کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ شراب کسی بھی صورت میں کرونا کی روک تھام کا علاج نہیں۔

یورپ میں ڈبلیو ایچ او کے دفتر نے کہا خوف اور غلط معلومات نے ایک خطرناک افسانہ تیار کر دیا ہے کہ سخت شراب پینے سے کوویڈ 19 وائرس ہلاک ہوجائے گا مگر ایسا نہیں ہوتا۔

عالمی ادارے کا کہنا ہےکہ شراب پینا ہمیشہ صحت کے خطرات کا باعث بنتا ہے۔ اس میں شامل میتھانول سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

شراب پینے سے ہر سال یورپ میں دس لاکھ افراد کی موت واقع ہوتی ہے۔

کیا میت سے کرونا زندوں کو منتقل ہوسکتا ہے؟

جہاں تک مرنے والوں کو غسل دینے کا معاملہ ہے پر بہت سارے سوالات اور خدشات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابھی تک کرونا میں مرنے والوں کی لاشوں سے انفیکشن منتقل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے کرونا سے فوت ہونے والے افراد کے لواحقین پر زور دیا کہ وہ اپنے فوت شدہ عزیزوں کی اطمینان اور اچھے طریقے سے آخری رسومات ادا کریں اور ان کی تدفین کریں۔