.

سعودی عرب بھرمیں کارآمد سفری اجازت نامے کا منگل سے اجرا ہوگا:وزارت داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں کار آمد ایک ہی سفری اجازت نامے کو منگل سے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک ذریعے کے مطابق یہ نیا سفری اجازت نامہ 21 اپریل 2020 سہ پہر تین بجے سے مؤثر العمل ہوگا۔ سعودی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کےلیے بڑے شہروں میں 24 گھنٹے کا لاک ڈاؤن نافذ کررکھا ہے۔

کرفیو کی وجہ سے شہریوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں جانے کے لیے الگ الگ اجازت ناموں کی ضرورت ہے لیکن اب اجازت نامے کے نئے نظام کے تحت سعودی عرب بھر میں سفر کیا جاسکے گا اور اس مقصد کے لیے ایک ہی پرمٹ کارآمد ہوگا۔

رمضان المبارک میں پابندیاں

مسلم دنیا میں رمضان المبارک کی اس مرتبہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عاید کردہ غیرمعمولی پابندیوں کے جلو میں آمد ہورہی ہے۔

سعودی عرب کے کبار علماء کی کونسل نے اتوار کو دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ ماہِ صیام کے دوران میں اپنے گھروں ہی میں تراویح سمیت پنج وقتہ نمازیں ادا کریں۔

علماء کونسل نے کہا ہے کہ ’’مسلمانوں کو اپنے اپنے ممالک میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے نافذ کردہ احتیاطی تدابیر اور اقدامات کی پاسداری کرتے ہوئے مذہبی فرائض کی بجا آوری کرنی چاہیے اور اس طرح انھیں دوسروں کے لیے ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔‘‘

حکام نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے مذہبی فرائض کو ضرور پورا کریں لیکن اس عمل میں دوسرے افراد کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے کا سبب نہ بنیں۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس ایک متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے گرنے والے ذرّات یا ناک بہنے سے ذرّات سے پھیل سکتا ہے اور متاثرہ افراد کے ساتھ گھلنے ملنے کی وجہ سے بھی دوسرے اس مہلک وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

سعودی عرب کے مفتیِ اعظم نے جمعہ کو کہا تھا کہ مسلمان کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کی پاسداری کریں اور رمضان المبارک میں نماز تراویح کو اجتماعی طور پر ادا کرنے کے بجائے گھروں ہی میں ادا کریں اور عیدالفطر بھی گھروں میں ادا کریں۔

مسلمان مساجد میں پنج وقتہ نمازوں کی ادائی کے وقت صف بندی کا اہتمام کرتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ قیام کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں۔تاہم سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور مصر سمیت متعدد ممالک نے تاحکم ثانی مساجد میں پنجہ وقتہ نمازوں کی ادائی پر پابندی عاید کررکھی ہے۔مصر نے حفظِ ماتقدم کے طور پر رمضان میں اجتماعی افطار پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔