.

'کرونا' وائرس کی خفیہ فورس نے امریکی طیارہ بردار جہاز پریلغار کیسے کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک طیارہ بردار بحری جہاز 'تھیوڈور روزویلٹ' پر کھلے سمندر میں کرونا وائرس پھیلنے کے واقعے نے امریکیوں کو حیران کرکے رکھ دیا ہے۔ امریکا سے ہزاروں میل دور سمندر کی وسعتوں میں اس بحری بیڑے پر کرونا وائرس کا پہنچنا امریکیوں کے لیے حیرت کی بات ہے تاہم حکام اس کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گوام میں لنگر انداز روز ویلٹ میں کرونا کا بحران 2 مارچ کو سامنے آیا۔ اس واقعے کے بعد جہاز کےکپتان تھامس موڈلے کو برطرف کردیا گیا ہے۔

امریکی نیوی کے مطابق یو ایس ایس روز ویلٹ پر موجود 600 سے زاید افراد ممکنہ طورپر کرونا کا شکار ہوسکتے ہیں۔ چند روز قبل 103 نیوی سیلرز کے کرونا کی وباء کا شکار ہونے کے کی تصدیق کی گئی تھی۔

پیر کے روز امریکی افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف جنرل جان ہیٹن نے اعلان کیا کہ "تھیوڈور روزویلٹ" طیارہ بردار جہاز کے عملے کے دو تہائی بحریہ کے اہلکاروں میں کرونا کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔ جنرل ہیٹن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ گوام میں کھڑے جوہری طیارہ بردار بحری جہاز کے ایک اہلکار کی 'کرونا' سے ہلاکت کے بعد امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) کو فوجی جوانوں کے اس وائرس کا شکار ہونے کے بارے میں قیمتی معلومات جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

امریکی اخبار "نیو یارک ٹائمز" نے بتایا ہے کہ 5 مارچ کو ویتنام کی دا نانگ بندرگاہ میں مشہور طیارہ بردار بحری جہاز کو لنگر انداز ہونے پر ملاحوں کے ذریعے "تھیوڈور روزویلٹ" تک کرونا وائرس پہنچا۔ ویتنام جنگ کے خاتمے کے بعد سے کسی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا اس ملک کا دوسرا دورہ ہے۔

اس وقت دا نانگ سے دور ملک کے شمال میں ویتنام میں کرونا کے متاثرین کے 16 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ بحر الکاہل میں امریکی بحریہ کے سینیر افسر ایڈمرل ڈیوڈ ڈیوڈسن نے حکم دیا کہ طویل منصوبہ بند دورہ خطے میں خاص طور پر بیجنگ کے خلاف فوجی طاقت کی نمائش کے لیے جاری رکھا جائے گا۔

چونکہ دا نانگ کی بندرگاہ کی چوکیاں اتنی چھوٹی ہیں کہ روزویلٹ کا سائز کا جہاز ان میں لنکرانداز نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے جہاز جہاز بندرگاہ سے باہر کھڑا کرکے جہاز کے عملے نے ساحل تک پہنچنے کے لئے چھوٹی کشتیاں استعمال کیں۔

عملے کے ارکان نے اس شہر کے ہوٹلوں میں رہتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔ عملے ایک اہلکار نے سوشل میڈیا پر اپنی تصویر کے ساتھ لکھا کہ مجھے ویتنام بہت اچھا لگتا ہے۔

دا نانگ میں چوتھے اور آخری دن درجنوں ملاحوں نے ایک رات ایک ایسے ہوٹل میں گذاری جہاں کرونا سے متاثرہ دو برطانوی قیام کرچکے تھے۔ اسی رات روز ویلٹ کمانڈر نے جہاز کے عملے میں سے کچھ کووائرس کا شکار ہونے کے خطرے کے پیش نظر واپس جہاز پرجانے کے احکامات دیے تھے۔

"نیو یارک ٹائمز" کے مطابق روزویلٹ سمندر میں لوٹا اور ملاح طبی معائنہ میں رہے۔ چونکہ کوویڈ 19 کے لیے 14 دن علامتوں کے ظاہر ہونے کے لیے مقرر ہیں۔ اس لیے اس عرصے میں طیارہ بردار جہاز پر طیارے جاپان اور فلپائن کے لیے سامان لاتے اور لے جاتے رہے۔

اس کے بعد 24 مارچ کی صبح سویرے بحری جہاز میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اعلان کیا گیا کہ جہاز پرموجود کچھ اہلکار کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس وقت تک اس جہاز نے لمبا سفر کرتے ہوئے مغربی بحر الکاہل بھی پارکرلیا تھا۔

ملاح جانتے تھے کہ کچھ ہوا ہے۔ جلد ہی سب کو معلوم ہو گیا کہ ملاحوں میں سے تین کے کرونا وائرس کے مثبت نتائج آئے ہیں۔اس وباء کا آغاز جہاز کے ایٹمی ری ایکٹر ڈویژن میں ہوا تھا۔