.

لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے سعودی معیشت کے سامنے موجود 3 منظر نامے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حال ہی میں چیمبرز کونسل کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کے نتائج کی روشنی میں ملکی معیشت کے سامنے موجود 3 ممکنہ منظر نامے پیش کیے ہیں۔ ان کے ذریعے آئندہ جون تک کرونا وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس طرح معمول کی کاروباری سرگرمیاں بتدریج بحال ہو سکیں گی۔

مذکورہ رپورٹ کو "کوویڈ - 19 کے معاشی اثرات" کا عنوان دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے حوالے سے تین منظر نامے ذکر کیے گئے ہیں۔ پہلے کے مطابق رواں ماہ کے آخر تک اس وبائی مرض کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے منظر نامے کے مطابق آئندہ جون میں اور تیسرے کے مطابق آئندہ ستمبر میں اس امر کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

عربی روزنامے "الشرق الأوسط" کے مطابق ہر منظر نامے کے مرحلے میں قومی پیداوار پر مرتب اثرات کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دوسرا منظر نامہ وقوع سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اس لیے کہ یہ معیشت پر مرتب مضر اثرات پر کنٹرول کی راہ ہماور کرے گا تا کہ رواں ماہ کے آخر تک لاک ڈاؤن کے اقدامات میں نرمی کا آغاز کیا جا سکے۔ اس طرح بتدریج معمول کی زندگی کی طرف لوٹا جا سکے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کی عالمی ایجنسیوں کے مطابق سعودی عرب کی معیشت اب بھی مضبوط کی بلند سطح پر موجود ہے۔ اس وقت مملکت کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر 490 ارب ڈالر تک پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ حجم 47 ماہ کے لیے درآمدات کی قیمت ادا کرنے کے واسطے کافی ہے۔ یہ عالمی اوسط کے 8 گُنا کے برابر ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا سیکٹر فضائی کمپنیوں کا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سفر پر عائد قیود ہیں۔ توقع ہے کہ مملکت میں داخلے پر عائد پابندی کے نتیجے میں سیاحت اور حج و عمرے کا سیکٹر نمایاں طور پر متاثر ہو گا۔

رپورٹ میں 5 بنیادی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں لیبر کا معاملہ اہم ترین ہے۔ سفارشات میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقامہ کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کی بے دخلی کے لیے ایک نیا پروگرام ترتیب دیا جائے۔ مملکت کی مارکیٹ کو غیر ماہر لیبر میں ڈوبنے سے بچانے کے لیے روک لگائی جائے۔ تمام شعبوں میں سعودی شہریوں کی اہلیت پر اعتماد کو یقینی بنایا جائے۔

معلومات و تحقیق سے متعلق مرکز کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ فوڈ اور ہیلتھ سیکٹروں میں خود کفیل ہونے کی حکمت عملی اپنائی جائے۔ اس کے علاوہ تحقیق، ترقی اور لیبارٹریز کے میدان میں صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔

سعودی چیمبرز کونسل کے مطابق مملکت میں کاروباری شخصیات نے معیشت اور سماج پر کرونا وائرس کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف نوعیت کے 400 منصوبے پیش کیے۔