.

کرونا پروٹوکول دھرا رہ گیا، بنگلہ دیش میں عالم دین کے جنازے میں عوام کا جم غفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش میں ایک مذہبی عالم کی وفات پراس کے جنازے میں شرکت کے لیے کئی دیہاتوں سے ہزاروں لوگ کرونا وباء کی روک تھام کے لیے وضع کردہ پروٹوکول کو توڑ کر جمع ہوگئی جس کے بعد حکومت کوکئی دیہاتوں کو قرنطینہ کرنا پڑا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مقامی عالم دین کی وفات پر دارالحکومت ڈھاکا سے 60 کلو میٹر کی مسافت پر واقع براھما نباریا گائوں میں عوام کا ایک جم غفیر جمع ہوگیا۔ جنازے میں شرکت کرنے والوں نے کرونا کی وباء کی وجہ سے حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔

ایک بنگالی پولیس افسر بتایا کہ مذہبی رہ نما مولانا جبیر احمد انصاری کے جنازے میں شرکت کے سات دیہار کے تمام لوگوں کو 14 دن کے لیے ان کے گھروں میں بند کردیا ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز ایک جنازے میں شرکت کی تھی اور کرونا کے پروٹوکول کو صریحا نظرانداز کیا تھا۔مولانا انصاری کچھ عرصے سے سرطان کے مرض میں مبتلا تھے جو جمعہ کی شام انتقال کرگئے تھے۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں کرونا کی وجہ سے لاک ڈائون جاری ہے مگر عالم دین کی وفات کے بعد ان کے جنازے کی اجازت دی گئی تھی۔ البتہ پولیس کو یہ توقع نہیں تھی کہ جنازے میں لوگ بغیر حفاظتی انتظامات کے اتنی کثیر تعداد میں شرکت کرسکتے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں میں سے اکثر کے پاس ماسک تک نہیں تھے اور انہوں نے سماجی دوری کا بھی خیال نہیں رکھا۔ جس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ یہ جنازہ کرونا وائرس پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔

لوگوں کو جنازے میں شرکت سے روکنے میں ناکامی پردو سینیرپولیس افسران کو برطرف کردیا تھا۔

بنگلہ دیش میں اب تک کرونا کے 2456 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 91 بتائی جاتی ہے۔