.

ترکی میں کرونا کا پھیلاؤ نقطہ عروج پر ، ایردوآن کی نظر عید الفطر پر مرکوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پیر کے روز تک کرونا وائرس کے مصدقہ کیسوں کی تعداد 91 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ اس طرح وہ مشرق وسطی میں اس عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا۔ تاہم دوسری جانب ملک کے صدر رجب طیب ایردوآن امید رکھتے ہیں کہ تمام امور معمول کے مطابق بحال ہو جائیں گے۔

ایردوآن کا کہنا ہے کہ ترکی میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ عروج پر پہنچنا شروع ہو گیا ہے اور امید ہے کہ ماہِ رمضان کے بعد مئی کے اواخر میں معمولات زندگی نارمل ہو جائیں گے۔ یہ بات منگل کے روز ترک خبر رساں ایجنسی اناضول نے بتائی۔

ترکی نے پیر کے روز کرونا وائرس کے سبب مزید 123 افراد کے فوت ہونے کا اعلان کیا۔ اس طرح اب تک ملک میں کرونا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2140 ہو گئی ہے۔ ترکی میں اب تک کرونا کے تقریبا 91 ہزار کیس سامنے آ چکے ہیں۔

ایردوآن نے پیر کے اعلان کیا تھا کہ استنبول اور دیگر تیس مرکزی شہروں میں جمعرات کے روز سے چار دن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم 23 سے 26 اپریل تک 31 شہروں میں قرنطینہ نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں"۔

یاد رہے کہ 8.3 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی والے ملک ترکی نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر چھٹی کے دو روز 31 شہروں میں 48 گھنٹوں کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔