.

ایران کسی تنازع یا کشیدگی کا کبھی آغاز نہیں کرے گا: صدر حسن روحانی کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران خطے میں امریکی فوجیوں کی باریک بینی سے نگرانی کررہا ہے لیکن وہ کبھی کوئی تنازع یا کشیدگی نہیں چھیڑے گا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے یہ بات امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ہفتے کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق صدر روحانی نے امیرِ قطر کو رمضان المبارک کے آغاز پر مبارک باد پیش کی ہے۔

ایرنا کے بیان کے مطابق’’ صدر روحانی اور شیخ تمیم نے ایران اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔‘‘

امیرِ قطر نے بھی ایرانی حکومت اور عوام کو ماہِ صیام کے آغاز پر مبارک باد پیش کی ہے اور اس بات کی ضرورت پر زور دیاہے کہ ’’تمام ممالک خطے میں کشیدگی سے بچاؤ کے لیے مل جل کر کام کریں۔‘‘

دونوں ملکوں کے لیڈروں کی خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ان نیک خواہشات سے دو روز قبل ہی ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے سربراہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر خلیج میں امریکی جنگی بحری جہاز ایران کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے تو انھیں تباہ کردیا جائے گا۔اس سے پہلے گذشتہ بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے سے باز رہے۔

اسی ہفتے ایران نے اپنا ایک فوجی سیٹلائٹ خلا میں چھوڑا ہے۔ اس تجربے میں بیلسٹک میزائلوں کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔امریکا نے ایران کے اس تجربے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی قراردیا ہے اور اس کے اتحادی برطانیہ کا بھی کہنا ہے کہ یہ ایک ’’نمایاں تشویش کا معاملہ‘‘ ہے اور سلامتی کونسل کی قرارداد سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہے۔