.

ترکی کو لیبیا کے لیے مزید جنگجو بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایک کثیر الاشاعت اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن کو لیبیا میں قومی وفاق حکومت کے دفاع کے لیے مزید جنگجو بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ترک اخبار 'احوال' میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انقرہ حکومت کی طرف سے شام میں جنگجوئوں کو پیسوں کا لالچ دینے کے ساتھ دیگر مراعات کی پیش کش کی گئی مگر بہت سے جنگجو گروپوں نے لیبیا میں جاری لڑائی میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق شامی جنگجوئوں کی طرف سے لیبیا میں لڑائی کے لیے آمادہ ہونے سے انکار پر ترک انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے جنگجوئوں کو جان سے مارنے کی دھمکمیاں دی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ لیبیا میں لڑائی میں حصہ لینے والے جنگجوئوں کو کئی قسم کی مراعات دینے کی پیش کش کی ہے جن میں چھ ماہ یا زیادہ عرصے تک لیبیا میں لڑنے والے جنگجوئوں کو ترکی کی شہریت دینے کی پیشکش بھی شامل ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ لیبیا میں جنگجوئوں پر طیب ایردوآن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ جنگجو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ترک صدر سیاسی مقاصد اور جیو۔ پولیٹیکل مقاصد کے لیے انہیں ایندھن بنا رہے ہیں۔ ترک صدر کی آمرانہ روش اور لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی اندھی حمایت تنازع کو مزید بھڑکا رہی ہے۔

لیبیا کی نیشنل آرمی نے حالیہ عرصے کے دوران ترکی کی طرف سے طرابلس میں لڑائی کے لیے بھیجے متعدد جنگجوئوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان کی گرفتاریاں بو سلیم اور دارالحکومت طرابلس کی جنوبی پہاڑیوں سے عمل میں لائی گئیں۔

گرفتار کیے گئے اجرتی قاتلوں نے بتایا کہ انہیں ترکی کی طرف سے لیبیا میں لڑنے کے لیے ماہانہ 2000 ڈالر دینے کاوعدہ کیا ہے۔ گرفتار جنگجوئوں نے بتایا کہ لیبیا بھیجنے سے قبل ان سے دو ہزار ڈالر ماہانہ دینے کی بات کی گئی تھی مگر یہ فراڈ تھا۔ انہیں اتنی رقم نہیں دی جا رہی ہے۔