.

مائیک پومپیو کا ایران کوروایتی اسلحہ کی فروخت پرعاید پابندی میں توسیع کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ’’ ایران کا خلائی پروگرام پُرامن ہے اور نہ مکمل طور پر سویلین ہے۔‘‘انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو روایتی ہتھیاروں کی فروخت پر عاید اقوام متحدہ کی پابندی میں توسیع کی حمایت کرے۔ یہ پابندی اس سال اکتوبر میں ختم ہورہی ہے۔

مائیک پومپیو نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے:’’ سپاہ پاسداران انقلاب ایران کے فوجی سیٹلائٹ کے حالیہ تجربے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانیوں کے اپنے خلائی پروگرام کے پُرامن ہونے کے بارے میں ماضی میں کیے گئے دعوے محض ’’کذب بیانی‘‘ تھے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ’’تمام امن پسند اقوام کو ایران کی بیلسٹک میزائل کی حامل ٹیکنالوجی کو مسترد کردینا چاہیے اور اس کے خطرناک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کے لیے سب کو مل جل کر کام کرنا چاہیے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ دنیا میں دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والی اور یہود مخالفت میں پیش پیش صف اوّل کی ریاست کو روایتی ہتھیار خرید یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے میزائل پروگرام پر کام کرنے والے افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کرے۔

’’جب ایرانی عوام کرونا وائرس کا شکار ہورہے ہیں اور اس وَبا سے مررہے ہیں،تو یہ قابل افسوس ہے کہ ایرانی نظام اپنے وسائل اور کوششوں کو اشتعال انگیز فوجی سرگرمیوں پر صرف کررہا ہے،اس سے ایرانی عوام کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا۔

ایران نے اسی ہفتے اپنا ایک فوجی سیٹلائٹ مدار میں بھیجا ہے۔ اس تجربے میں بیلسٹک میزائلوں کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔امریکا نے ایران کے اس تجربے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی قراردیا ہے اور اس کے اتحادی برطانیہ کا بھی کہنا ہے کہ یہ ایک ’’نمایاں تشویش کا معاملہ‘‘ ہے اور سلامتی کونسل کی قرارداد سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

مائیک پومپیو نے اس تجربے کے فوری بعد ایران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے سیٹلائٹ چھوڑ کر سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔