.

رمضان افغان طالبان کوانسانی بنیاد پر جنگ بندی کا اچھا موقع فراہم کرتا ہے: امریکی ایلچی

افغانستان کے تمام فریق عوام کے مفاد میں اپنی تمام تر توانائیاں کووِڈ-19 کی وبا کے خلاف جنگ میں صرف کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے طالبان پر زوردیا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں انسانی بنیاد پر جنگ بندی پر عمل درآمد کریں اور تشدد کا سلسلہ روک دیں۔

انھوں نے اتوار کو اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں افغانستان کے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف جنگ لڑیں۔افغان عوام اور ملک کی فلاح وبہبود اسی میں ہے کہ تمام فریق اپنی تمام تر توانائیوں کو کووِڈ-19 کی وبا کے خلاف جنگ میں صرف کریں۔

افغان نژاد امریکی مذاکرات کار کہتے ہیں:'' رمضان طالبان کو انسانی بنیاد پر جنگ بندی قبول کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہےکہ وہ جب تک ملک میں صحت کا بحران ختم نہیں ہوجاتا،اس وقت تک تشدد کم کردیں اور فوجی کارروائیاں روک دیں۔''

واضح رہے کہ افغان حکام نے اب تک کرونا وائرس کے 1531 کیسوں کی تصدیق کی ہے اور ان میں 50 کی اموات ہوچکی ہیں۔افغان حکومت کے پاس کرونا کے ٹیسٹ کی محدود سہولت دستیاب ہے۔اس لیے ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔عبداللہ عبداللہ نے گذشتہ سال منعقدہ صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔وہ خود ہی صدر بن بیٹھے تھے اور منصب صدارت کا حلف لے لیا تھا۔اب جنگ زدہ ملک میں ان دونوں صدور کی الگ الگ حکومتیں چل رہی ہیں۔

امریکی ایلچی نے ایک ٹویٹ میں انھیں مخاطب ہوکر لکھا ہے کہ'' رمضان المبارک صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو ملک کے مفادات پر قربان کردیں۔''

دریں اثناء طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیٹو اتحاد خود قیام امن کے لیے اپنی دلچسپی دکھانے میں ناکام رہا ہے اور اس نے افغان فورسز کی تربیت ، لاجسٹکس اور فنڈنگ کے ذریعے حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جنگ بندی اور تشدد میں کمی کا ایسے وقت میں مطالبہ غیرقانونی اور موقع پرستانہ ہے جب مخالف فریق خود اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کررہا ہے۔''

طالبان نے حالیہ دنوں میں افغان سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کردیے ہیں اور انھوں نے ان حملوں میں افغان سکیورٹی فورسز اور پولیس کے دسیوں اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

افغانستان میں تشدد میں کمی کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطرکے دارالحکومت دوحہ میں سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت امریکی اور دوسری غیرملکی فورسز جولائی 2021ء تک افغانستان سے نکل جائیں گی لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ طالبان مختلف سکیورٹی ضمانتوں کی پاسداری کریں گے اور افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے۔