.

امریکا میں چینی طلبہ کی تعلیم پر پابندی عائد کی جائے : سینیٹر ٹوم کوٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر ٹوم کوٹن نے چین کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ چینی طلبہ کی امریکا میں اعلی تعلیم پر پابندی عائد کی جائے۔ ٹویٹر پر اپنے تازہ بیان میں ٹوم نے کہا کہ "چین کی کمیونسٹ پارٹی ہماری تحقیقی جامعات کے ذریعے خود کو جدید ٹکنالوجی سے لیس کر رہی ہے۔ ہمیں دہرے استعمال والی ٹکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے والے چینی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ بالخصوص اُن طلبہ کے حوالے سے جو سائنس، ٹکنالوجی ، انجینئرنگ اور ریاضیات کے شعبوں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کا اردہ رکھتے ہیں "۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی چین کے شہریوں کو امریکی جامعات سے جدید Intellectual property (ایسی چیز جِسے کوئی ایجاد کرتا ہے یا اسے بنانے بیجنے کا حق رکھتا ہے) اکٹھا کرنے یا چوری کرنے کے لیے بھیجتی ہے۔ ایف بی آئی کا ادارہ اس وقت امریکی انٹلیکچوئل پراپرٹی کے ایک ہزار سے زیادہ کیسوں کی تحقیقات کر رہی ہے جو چین کے واسطے سے چوری ہوئیں"۔

ٹوم کے مطابق چین کی فوج نے 500 عسکری محققین کو امریکی تعلیمی اداروں میں بھیجا۔

امریکی سینیٹر کے مطابق سال 2012 میں صدر باراک اوباما نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے۔ اس کی رُو سے ایرانی طلبہ کو امریکا میں جوہری توانائی یا جوہری سائنس کی تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

ٹوم کوٹن نے نے اتوار کے روز اپنے ملک کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ امریکی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے چینی طلبہ کے درخواست دینے پر پابندی عائد کی جائے۔ امریکی چینل فوکس نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں امریکی سینیٹر نے باور کرایا کہ یہ لوگ آخر کار چین لوٹ جاتے ہیں اور امریکی انٹیلکچوئل پراپرٹی چرانے کے بعد امریکیوں کی ملازمتوں پر حریف بن کر سامنے آتے ہیں۔

ٹوم کے مطابق سزا کے طور پر ان لوگوں کو امریکی کالجوں اور جامعات میں سائنس کی تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا جائے۔ امریکی سینیٹر نے کہا کہ چین میں کرونا کی وبا ان کے سرکاری اعداد و شمار سے 40 گُنا زیادہ ہے۔