.

کرونا:کعبۃ اللہ ،حجرِاسود اورمقامِ ابراہیم کی نظافت کے لیے’اوزون ٹیکنالوجی‘ کااستعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الحرمین الشریفین کے امور کے ذمے دار محکمہ (پریذیڈینسی) کے صدرعام اور امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے بہ نفس نفیس اللہ کے گھر، مقام ابراہیم اور حجرِاسود کی نظافت کا عمل انجام دیا ہے۔انھوں نے اوزون ٹیکنالوجی کے ذریعے اسلام کے ان مقدس مقامات کی صفائی کی ہے۔

او زون ٹیکنالوجی فضا میں موجود آکسیجن کو استعمال کرتے ہوئےاوزون پیدا کرتی ہے۔اوزون گیس ایک بہت طاقتور آکسیڈائزر شمار کی جاتی ہے اور یہ بیکٹیریا اور وائرس ایسے چھوٹے چھوٹے ننھے جرثوموں کو ہلاک کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔او زون گیس ٹرائی آکسیجن بھی کہلاتی ہے کیونکہ یہ آکسیجن کے تین ایٹموں پر مشتمل ہوتی ہے۔

تحقیقی مطالعات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ او زون پانی کی طرح فضا کو جراثیم ، بیکٹیریا اور وائرسوں وغیرہ سے پاک کرنے میں ایک مؤثر عامل ہوسکتی ہے۔یہ ای کولی کو ہلاک کرنے اور سارس سے آلودہ ماحول کو پاک کرنے کے لیے استعمال میں لائی جاچکی ہے۔

اوزون استعمال کے بعد اپنے زہریلے ذرّات نہیں چھوڑتی ہے جیسا کہ دوسرے کیمیکل استعمال کے بعد اپنے مضر اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔اس لیے او زون کو ماحول کو جراثیم سے پاک بنانے میں سب سے محفوظ اور مؤثر خیال کیا جاتا ہے۔اب اس ٹیکنالوجی کو مسجد الحرام کے اندرونی حصوں اور قالینوں کی صفائی میں بھی استعمال کیا جائے گا۔

شیخ عبدالرحمان السدیس نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بہ ذات خود اپنے ماتحت ادارے کے زیراہتمام کعبۃ اللہ اور مقام ابراہیم کی صفائی کے عمل میں حصہ لیا ہے۔انھوں نے حجرِاسود کو دھویا اور صاف کیا ہے۔غلاف کعبہ کی بھی اوزون ٹیکنالوجی کے ذریعے صفائی کی گئی ہے۔

جنرل پریزیڈینسی برائے الحرمین الشریفین مسجد الحرام اور اس کے ملحقہ صحنوں میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی احتیاطی اقدامات کررہی ہے اور ان کے تحت وقفے وقفے سے کعبۃ اللہ ، مسجد الحرام کی زیریں اور بالائی منزلوں کو جراثیم کش اوزون ٹیکنالوجی سے دھویا جارہا ہے۔

الشیخ عبدالرحمان السدیس حجرِاسود کو صاف کرتے ہوئے
الشیخ عبدالرحمان السدیس حجرِاسود کو صاف کرتے ہوئے