.

پیرس میں پولیس پرکار چڑھانے والے ڈرائیورنے داعش کی بیعت کررکھی تھی:پراسیکیوٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کےانسدادِ دہشت گردی کے پراسیکیوٹرز نے پیرس کے نواح میں پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پر کار چڑھانے والے ملزم کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس شخص نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی بیعت کررکھی ہے۔ اس کی کارروائی میں دو موٹر سائیکل سوار پولیس افسر زخمی ہوگئے تھے۔ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں اور اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

استغاثہ نے اس 29 سالہ مشتبہ ملزم کی شناخت یوسف ٹی کے نام سے کی ہے۔اس کا نام فرانس کی مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل نہیں تھا اور نہ اس کو سکیورٹی کے لیے خطرہ قراردیا گیا تھا۔

اس ملزم نے سوموار کی شب پیرس کے نواح میں اپنی بی ایم ڈبلیو کار کو ناکے پر پولیس کی کاروں اور موٹر سائیکلوں پر چڑھا دیا تھا۔پولیس افسر اس وقت ٹریفک کو کنٹرول کر رہے تھے۔ بعد میں تفتیش کاروں کو اس ملزم کی کار سے ایک چاقو اور ایک خط ملا ہے۔اس تحریر میں اس نے انتہا پسند گروپ داعش سے اپنی بیعت کا اقرار کیا تھا۔

اس کو واقعے کے بعد پولیس نے پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لے لیا تھا۔اس کے نفسیاتی معائنے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ اس کو کسی قسم کا کوئی ذہنی عارضہ لاحق نہیں تھا۔

فرانس کے انسداد دہشت گردی کے قومی دفتر نے کہا ہے کہ اس نے ملزم کے خلاف دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران میں سرکاری اہلکاروں کے قتل عمد کی کوشش کے الزام میں تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانس کی داخلی سلامتی کی ذمے دارایجنسی ڈی جی ایس آئی بھی اس کی تحقیقات میں معاونت کررہی ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں جنوری 2015 ء میں دہشت گردی کے حملوں کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔تب مسلح حملہ آوروں نے توہین آمیز خاکے چھاپنے والے میگزین شارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کردیا تھا اور ان کی اندھا دھند فائرنگ سے پولیس افسروں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد فرانس میں دہشت گردی کے حملوں میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔داعش سے وابستہ جنگجوؤں ہی نے ان میں سے زیادہ ترحملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے ہیں۔