.

او آئی سی کمیشن:سعودی عرب میں کوڑوں اور نوعمروں کی سزائے موت کے خاتمے کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) سے وابستہ انسانی حقوق کے ایک گروپ نے سعودی عرب میں مختلف جرائم پر کوڑوں اور نوعمروں کو سنگین جرائم پر سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

اوآئی سی کے تحت آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ان تبدیلیوں سے سعودی عرب کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں اور اسلام کے فلسفہ انصاف کے اصولوں کے مطابق داخلی قانون سازی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔‘‘

سعودی عرب کی عدالتِ عظمیٰ نے گذشتہ ہفتے ماتحت عدالتوں کے نظام میں ایک شاہی فرمان کے تحت کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ایک شاہی فرمان کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر نوعمروں کو سنائی گئی سزائے موت بھی کالعدم قرار دے دی جائے گی۔

عدالتِ عظمیٰ کے جنرل کمیشن نے عدالتوں کے لیے رہ نما اصولوں پر مبنی ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔اس میں انھیں ہدایت کی ہے کہ وہ مختلف تعزیری جرائم کے مرتکب افراد کو اب کوڑے مارنے کے بجائے صرف جرمانہ عاید کرسکتی ہیں یا قید کی سزا سنا سکتی ہیں یا بیک وقت یہ دونوں سزائیں سنا سکتی ہیں۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اسی ہفتے 18 سال سے کم عمری میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کی سزائے موت ختم کرنے کے لیے شاہی فرمان جاری کردیا ہے۔

سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن کے صدر عواد العواد نے اس شاہی فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ اگر کسی فرد (مرد یا عورت) نے نوعمری میں کسی سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا اور اس کو سزائے موت سنائی گئی تھی تو اب اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہوگا اور اس کا سرقلم نہیں کیا جائے گا۔اس کے بجائے اس کو دس سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی۔‘‘

واضح رہے کہ تعزیر کے زمرے میں ایسے جرائم آتے ہیں جن کی شریعت اسلامی نے سزا(حد) مقرر نہیں کی ہے اور قاضی (جج) قرآن وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے ان کی سزاؤں کا تعیّن کرسکتا ہے۔