.

ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے جرمنی کی جانب سے ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کےفیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ جمعرات کے روز امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ برلن حکومت نے حزب اللہ کے حوالے سے صائب فیصلہ کیا ہے۔ جرمنی ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں بالخصوص حزب اللہ کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف اقدامات کررہے ہیں۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم حزب اللہ دنیا بھر میں سازشیں اور حملے کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم یورپی یونین کے دیگر ممبر ممالک سے بھی گذارش کرتے ہیں کہ وہ جرمنی کی پیروی کرتے ہوئے حزب اللہ کو اس کی دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرائیں۔

خیال رہے کہ کل جمعرات کو جرمن حکومت نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قراردیتے ہوئے اس پر پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جرمنی کے تازہ فیصلے میں حزب اللہ کے سیاسی ونگ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ماضی میں برلن حکومت شام میں لڑنے والے حزب اللہ کے جنگجوئوں اور تنظیم کے سیاسی بازو کو الگ الگ ڈیل کرنے کی پالیسی اپنائی تھی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی کی پارلیمنٹ میں گذشتہ دسمبر میں حزب اللہ پر پابندیوں کا قانون بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔

جرمنی کے حکمران اتحاد میں شامل دو جماعتوں نے لبنانی ملیشیاؤں پر پابندی عاید کرنے کے مطالبے کے بعد کہا تھا کہ حزب اللہ ملیشیا کو یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیئے۔