.

حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ امریکی دبائو میں نہیں کیا: جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ لبنانی شیعہ ملیشیا اور ایران نواز گروہ حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ امریکی دبائو کےتحت نہیں کیا گیا۔

جرمن حکومت کے ایک عہدیدار نے 'العربیہ' چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی حزب اللہ پر پابندی عائد کرنے کےفیصلے کے لیے امریکا کا کوئی دبائو نہیں تھا۔

جرمن عہدیدار نے اس نے جرمنی کی سرزمین پر موجود حزب اللہ عناصر کے خلاف ممکنہ اقدامات کے بارے میں بھی کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا فی الحال وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا جرمنی میں موجود حزب اللہ کے عناصر کے خلاف مہم شروع کی جائے گی یا نہیں۔

سیکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ جرمنی میں حزب اللہ کے ارکانں کی تعداد 1050 تک پہنچ گئی ہے۔

کل جمعرات کو جرمن وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ جرمنی نے اپنی سرزمین پر ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا پر باضابطہ پابندی عائد کردی ہے اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

اس اعلان کے بعد جرمن پولیس نے ملک میں موجود حزب اللہ کے اہم ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے ہیں۔

جرمنی اس سے قبل حزب اللہ کے سیاسی بازو اور شام کی حکومت کی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے والی یونٹ کو الگ الگ ڈیل کرتا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی کی پارلیمنٹ میں گذشتہ دسمبر میں حزب اللہ پر پابندیوں کا قانون بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔

جرمنی کے حکمران اتحاد میں شامل دو جماعتوں نے لبنانی ملیشیاؤں پر پابندی عاید کرنے کے مطالبکے بعد کہا تھا کہ حزب اللہ ملیشیا کو یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیئے۔