.

ایران : احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر طالب علم کو 6 سال قید اور 74 کوڑوں کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انجنیئرنگ کے ایک طالب علم کو جنوری میں نظام مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں چھے سال قید اور 74 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس طالب علم نے جنوری میں ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔سیکڑوں ایرانیوں نے پاسداران انقلاب کے میزائل حملے میں یوکرین کے ایک مسافرطیارے کو مارگرانے کے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

ایرانی عدالت سے سزا پانے والے مبیّنہ ملزم مصطفیٰ ہاشم زادہ تہران یونیورسٹی میں انجنیئرنگ کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے جمعہ کو ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ ’’انھیں قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے پاداش میں پانچ سال قید اور نقضِ امن کے جرم میں مزید ایک سال قید اور 74 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے۔‘‘

جامعہ تہران ہی ایک اور طالب علم امیر محمد شریفی کو چند روز قبل جنوری میں مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تہران میں طلبہ نے اپنی جامعات کے باہر جمع ہو کر احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور پاسداران انقلاب کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

گذشتہ ہفتے شمالی شہر آمول میں پانچ افراد کو نظام مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے اور پاسداران انقلاب کے خلاف نعرے بازی کی پاداش میں مجموعی طور پر30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ یوکرین کا مسافر طیارہ دارالحکومت تہران سے اڑان بھرنے کے فوری بعد میزائل لگنے سے گر کر تباہ ہوگیا تھا۔اس واقعے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ایرانی حکام نے کئی روز کے بعد اس طیارے کو مارگرانے کی ذمے داری قبول کی تھی۔