.

ترکی کے بحری جنگی جہاز لیبیا کے ساحل کے نزدیک موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کو ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ہفتے کو علی الصبح لیبیا کے ساحلی علاقے القرہ بوللی کے مقابل ترکی کے بحری جنگی جہاز دیکھے گئے ہیں۔ خیال ہے کہ یہ جہاز ترہونہ میں لیبیا کی فوج کی سمت بحری بم باری کی تیاری کے سلسلے میں موجود ہیں۔

دو روز قبل ترکی کی حمایت یافتہ وفاق حکومت نے جنگ بندی کو مسترد کر دیا تھا۔ لیبیا کی فوج نے برادر ممالک کے کہنے پر رمضان کے دوران اس جنگ بندی کو قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ فوج نے عالمی برادری اور برادر و دوست ممالک کے لڑائی فوری طور پر روک دینے کے مطالبوں پر لبیک کہا۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ وفاق حکومت کی مسلح ملیشیاؤں کی جانب سے کسی بھی خطرے یا جنگ بندی کی خلاف ورزی پر لیبیا کی فوج جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اس کے مقابل وفاق حکومت نے اس جنگ بندی کو مسترد کر دینے کا اعلان کیا۔ اس نے باور کرایا کہ ملک کے تمام حصوں میں قانون کے دائرے سے خارج گروپوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

انقرہ نے اپنے طور پر ایک بیان میں باور کرایا کہ لیبیا کی فوج کے مقابل، وفاق حکومت کے لیے اس کی سپورٹ جاری رہے گی۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن نے تنازع کے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ مشترکہ فوجی بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے نقشہ راہ کے مطابق مستقل فائر بندی تک پہنچنا ہے۔