.

سعودی دارالحکومت الریاض میں کرونا وائرس کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر کیسے کام کرتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے دارالحکومت الریاض میں قائم ’قومی صحت ہنگامی آپریشنز مرکز‘ کو کرونا وائرس کی وَبا کے خلاف جنگ میں ایک کمان اور کنٹرول روم میں تبدیل کردیا ہے اور کرونا کے تعلق سے تمام معاملات وہیں سے کنٹرول کیے جاتے ہیں ۔

یہ مرکز سعودی وزارت صحت کے ڈیزاسٹر اور کرائسس مینجمنٹ کے آپریشنز کو وضع کرنے اور ان پر عمل درآمد کا ذمے دار ہے۔

اس آپریشنز مرکز کےملازمین ہنگامی فون کالز موصول کرتے ہیں ،کیسوں کو مانیٹر کرتے ہیں ، مجوزہ کیسوں کی پیروی کرتے ہیں اور انھیں دیکھتے ہیں کہ ان میں مزیدکیا پیش رفت ہورہی ہے۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے بتایا کہ اس مرکز کے زیر اہتمام ’’ گذشتہ دوہفتے کے دوران میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد کا طبی معائنہ کیا گیا ہے ،ان میں ایک چوتھائی یعنی 60 ہزار سے زیادہ کی ناک کی رطوبت کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ایک طویل عرصے تک احتیاطی تدابیر اور حفظان صحت کی پابندیوں پر عمل درآمد جاری رہے گا ۔صرف ضروری کاموں کے لیے لوگوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی اور اجتماعات سے گریز کیا جائے گا۔ ہم سب کو اس معاملے میں اجتماعی ذمے داری پوری کرنی چاہیے۔‘‘

قبل ازیں انھوں نے سوموار کو سعودی عرب میں کرونا وائرس کے 1645 نئے کیسوں اور سات اموات کی اطلاع دی تھی۔ان کے بہ قول اب مملکت میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 28656 ہوگئی ہے اور اس مہلک وَبا کا شکار 191 افراد وفات پا چکے ہیں۔