.

معاندانہ روش بڑھ رہی ہے ، تصادم پر مجبور ہو سکتے ہیں : چینی انٹیلی جنس کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز کو ابتدائی طور پر میڈیا سے چھپانے کے تناظر میں چین کو درپیش تنقید میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں چین کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں عالمی سطح پر ملکی صورت حال کی ایک تاریک تصویر پیش کی ہے۔

کرونا وائرس اب تک دنیا بھر میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد کی جان لے چکا ہے۔ ان میں 85% کے قریب اموات امریکا اور یورپ میں ہوئی ہیں۔

چینی ذمے داران کو پیش کی گئی مذکورہ انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ چین کو عالمی سطح میں معاندانہ صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جیسا کہ 1989 میں ٹیانمین اسکوائر پر مظاہروں کے دوران ہوا تھا۔

اس رپورٹ کو China Institutes of Contemporary International Relations نے تیار کیا ہے۔ یہ ریاستی سلامتی کی وزارت کے زیر انتظام ایک تحقیقی ادارہ (تھنک ٹینک) ہے۔ رپورٹ کو اپریل کے اوائل میں چینی صدر شی جن پنگ سمیت ملک کے اعلی حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ بڑھتی ہوئی معاندانہ لہر ملک کو امریکا کے مقابلے پر لا کر کھڑا کر سکتی ہے۔

رائٹرز خبر رساں ایجنسی نے مذکورہ رپورٹ کو قریب سے دیکھنے والے افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیجنگ کو امریکا کے زیر قیادت معاندانہ جذبات کی لہر کا سامنا ہے۔ چین کو اس موقع پر بدترین منظر نامے کے لیے خود کو تیار کرنا لازم ہے۔ اور یہ منظر نامہ دو بڑی اقتصادی قوتوں کے درمیان مسلح تصادم ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے چین کے ممکنہ احتساب کے حوالے سے دھمکیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

گذشتہ دنوں کے دوران فریقین کی جانب سے الزامات اور ردود عمل کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔ تازہ ترین رد عمل پیر کے روز چین کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے بیان پر سامنے آیا۔ اس میں امریکی وزیر کے بیان کو غیر متوازن اور پاگل پن قرار دیا گیا !

پومپیو نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس بات کے بہت زیادہ شواہد موجود ہیں کہ کوویدڈ-19 وائرس کا اصل منبع چین کے شہر ووہان میں واقع ایک تجربہ گاہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس نظریے کو شدت سے پھیلا رہی ہے۔ وہ چین کو وبا کے پھیلاؤ کے ساتھ ساز باز کرنے کے سلسلے میں تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ کرونا وائرس پہلی مرتبہ گذشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں ظاہر ہوا تھا۔