.

کروناوائرس: سعودی عرب میں خاندانی اکٹھ اور پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جمعرات کو نئے قواعد وضوابط جاری کیے ہیں۔ان کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماعات یا خاندانی اکٹھ پر پابندی عاید کردی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزارت داخلہ کے نئے حکم کے تحت اب ایک سے زیادہ خاندان کسی جگہ بیک وقت اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ نیز ایک ہی خاندان سے تعلق نہ رکھنے والے افراد بھی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اب لوگوں کو شاپنگ مالوں اور پرچون کی دکانوں پر جمگھٹا لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جو لوگ کسی جگہ اکٹھے نہیں رہتے ہیں،ان کے کسی ایک جگہ اجتماع پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

وزارت داخلہ اپنے ان نئے قواعد وضوابط پر نو تشکیل شدہ ایک پولیس یونٹ کے ذریعے عمل درآمد کروائے گی۔ان کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ لوگ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سماجی میل جول میں مناسب فاصلہ اختیار کریں اور اس ضمن رہ نما ہدایات پر مکمل عمل درآمد کریں۔

سعودی حکومت نے 26 اپریل کو شہروں میں نافذ لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کرفیو میں نرمی کردی تھی اور13 مئی تک مملکت بھر میں شاپنگ مال اور پرچون فروشوں کو اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی تھی۔ تاہم مکہ مکرمہ میں بدستور لاک ڈاؤن نافذ ہے۔حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہیں نکلیں اور سرکاری اور نجی مقامات پر بڑی تعداد میں اکٹھے ہونے سے گریز کریں۔

سعودی عرب نے جمعرات کو کرونا وائرس کے 1793 نئے کیسوں اور دس اموات کی تصدیق کی ہے۔سعودی وزارت صحت کے مطابق مملکت میں کل کیسوں کی تعداد 33731 ہوگئی ہے اور یہ مہلک وَبا پھیلنے کے بعد سے 219 افراد وفات پا چکے ہیں۔