2021ء کے آخر تک کرونا وائرس کے علاج کی ویکسین دستیاب نہیں ہوگی:ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دنیا بھر میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی مہلک وَبا کے علاج کی دریافت کے لیے مشہوردوا ساز فرموں کے درمیان ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔بعض ممالک کے سائنسدانوں نے کرونا کا تریاق علاج دریافت کرنے کے دعوے کیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب وہ ان دواؤں کی کلنیکل آزمائش کررہے ہیں لیکن عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ 2021ء کے اختتام سے قبل کرونا کی کسی ویکسین کی تیاری کا امکان نہیں۔

دنیا بھر میں کئی ایک ممالک ، سائنس دان ، دوا ساز ادارے،جامعات اور تحقیقاتی ادارے کرونا وائرس کے علاج کی دریافت اور اس کے لیے کسی مؤثر ویکسین کی تیاری میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں کیونکہ اسی صورت میں اس مہلک وَبا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

امریکا کی تین بڑی دوا ساز کمپنیوں انوویو ، موڈرنا اور فائزر نے پہلے ہی کرونا کی دوا کی کلنیکل آزمائشوں کا آغاز کردیا ہے اور اس کو ویکسین کی تیاری کی جانب پہلا مرحلہ قرار دیا جارہا ہے۔برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین حکومت کی معاونت سے کام کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ آیندہ خزاں تک ویکسین تیار کر لیں گے۔

ان کے علاوہ اسرائیل سمیت بعض دوسرے ممالک نے بھی ویکسین کی تیاری کے مرحلے کے نزدیک پہنچنے کے دعوے کیے ہیں لیکن ان کے علی الرغم عالمی ادارہ صحت کے ایک سینیر عہدے دار ڈیل فشر کا کہنا ہے کہ کرونا کی ویکسین کی 2021 کے اختتام سے قبل دستیابی کا امکان نہیں ہے۔انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ میرے خیال میں اگلے سال کا اختتام بہت مناسب توقع ہوگی۔‘‘ڈیل فشر ڈبلیو ایچ او کے عالمی وَبا الرٹ اور ردعمل نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔

انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ لوگوں کو اپنی توقعات کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔میرے خیال میں اندھیرے میں ٹامک ٹوئیے مارنے کے بجائے آپ وہی کررہے ہیں جو آپ چاہتے ہیں کیونکہ اس کی آپ کو ضرورت ہے۔‘‘

انھوں نے اس کی یہ وضاحت کی ہے کہ اس وقت ویکسین کلینیکل آزمائش سے گزر رہی ہے اور یہ تیاری کے عمل کا پہلا مرحلہ ہے۔اس کے بعد اس کو دوسرے اور تیسرے مرحلے سے گزرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ ویکسین محفوظ اور قابل اعتبار ہے۔

نیزاگر ویکسین کرونا کے علاج میں مؤثرثابت بھی ہوجاتی ہے تو پھر اس کے بعد اس کی بڑی پیمانے پر تیاری اور دنیا بھر میں تقسیم کے مراحل درپیش ہوں گے اور یہ بہ ذات خود قدرے طویل مرحلےہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے ویکسین کی تیاری کے ضمن میں امید افزا لب ولہجے میں بات کی ہے اور انھوں نے اپنے تیئں اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ’’رواں سال کے آخرتک ویکسین دستیاب ہوجائے گی۔ہم اس کے لیے سخت جاں فشانی سے کام کررہے ہیں۔‘‘

تاہم ڈیل فشر سمیت شعبہ طب کے بہت سے ماہرین نے اس ٹائم لائن کو غیر حقیقی قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور انھوں نے صدر ٹرمپ کے بیان کو ’’قبل از وقت‘‘ قرار دیا ہے۔

امریکا کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی روش کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیورین شوان کا کہنا ہے:’’ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت بہت سی کمپنیاں ویکسین کی تیاری پر متوازی کام کررہی ہیں،ہم نے ایف ڈی اے سمیت ریگولیٹرز کے ساتھ عظیم شراکت داری ملاحظہ کی ہے۔ہم دراصل ویکسین کی منظوری کے عمل کو تیز کرسکتے ہیں۔‘‘

لیکن ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’اس کے باوجود روایتی طور پر ایک نئی دوا کی تیاری میں برسوں لگیں گے۔بہت سے ماہرین کا اس بات سے اتفاق ہے کہ نئی ویکسین کی تیاری میں کم سے کم 12 اور زیادہ سے زیادہ 18 ماہ کا عرصہ لگے گا اور مریضوں کو ان کی ضرورت کے مطابق ویکسین دستیاب ہوگی۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں