.

کرونا وائرس:سعودی عرب میں1966 نئے کیسوں کی تشخیص ، شرح اموات 0۰6 فی صد رہ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے سوموار کو کرونا وائرس کے 1966 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے جبکہ وزارت صحت کے مطابق کرونا وائرس سے مملکت میں اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے اور اب یہ 0۰6 فی صد رہ گئی ہے۔

وزارت صحت نے کرونا وائرس سے نو اموات کی تصدیق کی ہے۔اب تک مملکت میں اموات کی تعداد 255 ہوگئی ہے اور کل کیسوں کی تعداد جبکہ کل کیسوں کی تعداد 39102 ہوگئی ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبدالعالی نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 1280 مزید مریض صحت یاب ہوگئے ہیں اور اب تن درست ہونے والے مریضوں کی تعداد 12737 ہوگئی ہے۔یہ تعداد اب تک تصدیق شدہ کل کیسوں کا 30 فی صد ہے۔

سعودی عرب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں روزانہ اضافے کے باوجود شرح اموات دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم اور صحت یاب ہونے والوں کی شرح کہیں زیادہ ہے۔سعودی عرب میں اب تک کل تشخیص شدہ کیسوں میں صرف 0۰6 فی صد کی اموات ہوئی ہیں۔

ترجمان کے مطابق کرونا کے نئے کیسوں میں 78 فی صد مرد اور 22 فی صد خواتین ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والی خواتین اور کم سن بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اس کی بنیادی وجہ سماجی فاصلہ اختیار نہ کرنا اور سماجی اجتماعات میں شرکت ہے۔

انھوں نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرونا سے بچاؤ کے لیے سماجی میل جول کی صورت میں مناسب فاصلہ اختیار کریں،غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔گھر سے باہر چہرے پر ماسک پہن کر نکلیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے گذشتہ ہفتے بعض نئے اقدامات کا اعلان کیا تھااور ایک خاندان سے زیادہ افراد اور پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماعات پر پابندی عاید کردی تھی۔

سعودی وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے گذشتہ بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’کرونا وائرس کے علاج کے لیے پروٹوکول ، ٹیسٹنگ میں اضافے اور فعال انداز میں سکریننگ کی وجہ سے مملکت میں کرونا وائرس سے نسبتاً کم اموات ہوئی ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ان دنوں میں سعودی عرب میں کرونا وائرس کے زیادہ کیس رپورٹ ہورہے ہیں لیکن احتیاطی تدابیراختیار کرنے کی وجہ سے شرح اموات بہت کم ہے جبکہ دنیا بھر میں شرح اموات سات فی صد ہے اور یوں سعودی عرب میں شرح اموات ان ممالک کے مقابلے میں 10 گنا کم ہے۔