.

کرونا وائرس:اوبراورکریم کے سعودی ڈرائیوروں کو تین ماہ کی تن خواہ ملے گی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اوبر اور کریم کے تحت کاریں چلانے والے سعودی شہری ڈرائیوروں کو حکومت کی جانب سے مالی امداد ملے گی اور انھیں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد متاثر ہونے کی وجہ سے تین، تین ماہ کی تن خواہوں کے مساوی امدادی رقوم دی جارہی ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ صالح بن ناصر الجسر نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی منظوری کے بعد اوبر اور کریم کے سعودی ڈرائیوروں کے لیے ان مراعات کا اعلان کیا ہے لیکن اس کی شرط یہ ہوگی کہ ایسے سعودی شہری کل وقتی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہوں۔وہ سعودی ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کے ہاں رجسٹر ہوں اور کوئی اور کام یا ملازمت نہ کرتے ہوں۔

حکومت کے مقرر کردہ اس معیار پر پورا اترنے والے ڈرائیوروں کو تین ماہ کی تن خواہوں کے مساوی مالی امداد مہیا کی جائے گی۔واضح رہے کہ اس وقت دو لاکھ سے زیادہ سعودی شہری رائیڈ شئیرنگ ایپلی کیشنز کے تحت کام کے لیے رجسٹر ہیں۔

اپریل میں سعودی عرب کی حکومت نے رائیڈ شئیرنگ ایپلی کیشنز میں کام کو صرف سعودی شہریوں کے لیے مخصوص کردیا تھا۔اس اقدام کا مقصد نجی شعبے میں سعودی شہریوں کی ملازمت اور روزگار کی معاونت تھا۔

رائیڈ شئیرنگ ایپ اوبر نے اپریل کے اوائل میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں عارضی طور پر اپنی سروس منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان شہروں میں الریاض ، تبوک ، الدمام ، ظہران ، الہفوف اور چار گورنریاں جدہ ، طائف ، قطیف اور الخبر شامل ہیں۔

سعودی حکومت نے ان شہروں اور گورنریوں میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا تھا۔

سعودی حکومت نے مملکت میں کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے شہروں اور قصبوں میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کا کاروبار اور روزگار متاثر ہوا ہے۔حکومت نے ان متاثرہ افراد کی امداد کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ان کے تحت نجی شعبے کی کمپنیوں میں کام کرنے والے چارلاکھ سعودی شہریوں میں قریباً ایک ارب بیس کروڑ ریال کی رقوم تقسیم کی جارہی ہے۔