.

آسٹریلیا: کرونا وائرس کے علاج کے لیے’معجزاتی‘رنگ کاٹ کی فروخت پرگرجاگھر کو جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا میں ایک چرچ کو کرونا وائرس کے علاج کے لیے ’’معجزاتی‘‘ رنگ کاٹ (بلیچ) شربت کی دوا کے طور پر غیر قانونی فروخت اور تشہیر کے الزام میں جرمانہ عاید کیا ہے۔

آسٹریلیا میں ادویہ کے ریگولیٹر ادارے (انتظامیہ برائے معالجاتی اشیاء، ٹی جی اے) نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ’’معجزاتی منرل سالوشن (ایم ایم ایس) آسٹریلیا کو 151200 آسٹریلوی ڈالر مالیت کے بارہ جرمانے عاید کیے گئے ہیں۔ایم ایم ایس میں سوڈیم کلورائٹ پایا گیا ہے۔یہ کیمیکل کپڑوں کے رنگ کاٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور جراثیم کش ہے۔‘‘

ایم ایم ایس آسٹریلیا امریکا میں قائم چرچ جینسس دوم برائے صحت اور شفا کی شاخ ہے۔اس چرچ کے خلاف امریکا کا محکمہ انصاف الگ سے کارروائی کررہا ہے اور اس پر ایم ایم ایس کے اپنے برانڈ کی غیر قانونی فروخت کے الزام میں پابندی عاید کی جاچکی ہے۔اس میں بھی رنگ کاٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والی کلورین ڈائی آکسائیڈ شامل ہے۔

جینسس دوم چرچ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیانات میں کسی ثبوت کے بغیر یہ دعوے کیے گئے ہیں کہ ایم ایم ایس سے الزائمر سے ملیریا تک ہر بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

آسٹریلوی ریگولیٹر ادارے نے کہا ہے کہ اس نے چرچ پر اس بنا پر جرمانہ عاید کیا ہے کہ ایم ایم ایس کے استعمال سے ضرررساں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں حالانکہ ایسا کوئی کلینیکی یا سائنسی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایم ایم ایس سے کسی بھی بیماری کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

اس نے مزید کہا:’’ ایم ایم ایس کے استعمال سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔اس کے نتیجے میں قے شروع ہوسکتی ہے، دست لگ سکتے ہیں،ہیضہ ہوسکتا ہے،جسم میں پانی کی شدید کمی ہوسکتی ہے اور طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں اسپتال بھی جانا پڑسکتا ہے۔‘‘

اس انتباہ کے باوجود ایم ایم ایس آسٹریلیا نے اپنی ویب سائٹ پر مصنوعات کی تشہیر جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے اشتہاربازی کے قوانین اور قواعد وضوابط پر پورا اترنے کے لیے کچھ تحریری مواد کو ہٹا دیا ہے۔

اس نے الٹا میڈیا پرجھوٹ بولنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یہ غلط طور پر باور کرارہا ہے کہ ’’ایم ایم ایس کی سائٹ سے خطرناک صنعتی رنگ کاٹ کو پینے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔اس طرح ہمارے چرچ پر جاہلانہ اور ناقابل تلافی حملے کیے جارہے ہیں اوراس کو ہراساں کیا جارہا ہے۔‘‘

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ایم ایم ایس معجزاتی دوا کی تشہیر کے الزام میں میڈیا کی زد میں ہے۔قبل ازیں 2014ء میں بھی اس کا معالجاتی شربت پینے کے بعد چار افراد اسپتال جا پہنچے تھے اور ٹی جی اے کو صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے انتباہ جاری کرنا پڑا تھا۔