.

کرونا وائرس،چین کے ساتھ تمام تعلق داری منقطع کرسکتے ہیں :امریکی صدر کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فی الوقت چینی ہم منصب شی جین پنگ سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں چین کے کرونا وائرس کی وَبا سے نمٹنے کے معاملے پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو فاکس بزنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’میری (چینی صدر سے) بہت اچھی تعلق داری ہے لیکن ٹھیک اس وقت میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتا ہوں‘‘۔

ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ امریکا چین کے خلاف ردعمل میں کیا کارروائی کرسکتا ہے تو انھوں نے اس کا کوئی واضح جواب تو نہیں دیا لیکن دھمکی آمیز لہجے میں کہا:’’ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ہم کرسکتے ہیں۔ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں اور ہم تمام تعلق داری ہی کو ختم کرسکتے ہیں۔‘‘

صدر ٹرمپ نے 18 اپریل کو کہا تھا کہ چین کو نتائج کا سامنا کرنا چاہیے لیکن انھوں نے ان مضمرات کی کوئی وضاحت نہیں کی تھی کہ آیا چین ''جانتے بوجھتے'' ہوئے کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کا ذمے دار ہے۔

انھوں نے کرونا وائرس کی روزانہ کی صورت حال کے بارے میں بریفنگ میں کہا کہ ’’اگر یہ غلطی تھی تو پھر غلطی تو غلطی ہی ہے لیکن اگر وہ جانتے بوجھتے ہوئے اس کے ذمے دار ہیں تو پھر انھیں اس کے مضمرات کا خمیازہ بھگتنا چاہیے۔‘‘

امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کے عہدے دار چین کے شہر ووہان میں گذشتہ سال دسمبر میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس نے اس وبا کی معلومات کے تعلق سے شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کو امریکا کی جانب سے ملنے والی مالی امداد بھی معطل کردی ہے اور ڈبلیو ایچ او پر چین مرتکز ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان ان (چینیوں ) کے یہ کام کرنے تک اچھے تعلقات استوار تھے۔انھوں نے زرعی شعبے میں ڈیل کے پہلے مرحلے کا حوالہ دیا تھا۔اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس وقت سوال یہ ہے کہ کرونا وائرس کے معاملے میں جو کچھ ہوا تھا، وہ ایک غلطی تھااور وہ کنٹرول سے باہر ہوگیا یا یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ان دونوں چیزوں کےدرمیان بہت زیادہ فرق ہے۔‘‘