.

ترکی: اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ، 4 میئروں کی گرفتاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے ایک بار پھر حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے مخالف میئروں کی گرفتاریوں کا عمل شروع کر دیا ہے۔

سیکورٹی ذرائع اور سرکاری خبر رساں ایجنسی اناضول نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ حکام نے دہشت گردی سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں کرد اکثریتی علاقوں کے میئروں میں سے چار کو حراست میں لے لیا ہے۔

اگدیر، سعرد، بائیکان اور کورتالان کی بلدیات کے گرفتار سربراہان کا تعلق اپوزیشن کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جو کردوں کی حامی ہے۔ صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ اس پارٹی کے مسلح جمعات کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ روابط ہیں۔

واضح رہے کہ ایک عرصے سے ترکی کے حکام نے اس الزام کے تحت مذکورہ جماعت کے ذمے داران کی گرفتاری پر کمر باندھی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں جماعت کے ہزاروں کارکنان اور بعض رہ نماؤں کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اس بات کی تردید کرتی ہے کہ اس کا کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔

مارچ 2019 میں مقامی حکومت کے انتخابات کے بعد نصف سے زیادہ انتظامی مراکز میں بلدیاتی سربراہان کو تبدیل کیا جا چکا ہے جہاں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتظامی مراکز کی تعداد 65 کے قریب ہے اور ان کے میئروں کو حکومت کے ہمنوا افراد سے تبدیل کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہ نماؤں کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت 2016 سے حراست کا سامنا ہے۔

مذکورہ جماعت کے ایک نمایاں رہ نما صلاح الدین دمیرتاش کو متعدد مقدمات کے سلسلے میں 2016 سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ وہ صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف نامزد امیدوار بھی تھے۔