.

حکومت نے ماؤں اور بچوں کو بے رحمانہ طریقے سے جیلوں میں پھینک دیا : تُرک رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں کرونا وائرس کو قابو کرنے حوالے سے احتیاطی اقدام کے طور پر صدر رجب طیب ایردوآن کے قید مخالفین کو بند جیلوں سے دیگر کھلی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ان قیدیوں کے حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا ترکی میں درجنوں جیلوں تک پہنچ چکی ہے۔

اس سلسلے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور ترکی میں انسانی حقوق کے دفاع کے میدان کی ایک با اثر شخصیت عمر فاروق جرجرلی اولو نے باور کرایا ہے کہ ان کے ملک میں تمام جیلوں کی حالت خراب ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اولو نے گذشتہ ماہ کے وسط میں جاری معافی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس معافی سے ترکی میں ہزاروں غیر سیاسی قیدیوں نے فائدہ اٹھایا۔

اولو کے مطابق "ایردوآن نے مذکورہ معافی کے ذریعے قیدیوں کے لیے انصاف کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ صدر کا مقصد اُن جیلوں کو خالی کرنا تھا جو انہوں نے غیر قانونی طریقے سے بھڑ ڈالی تھیں۔ اس لیے کہ یہاں گنجائش سے زیادہ افراد کو ٹھونس دیا گیا تھا۔ لہذا ایردوآن نے جلدی میں معافی کی تجویز پیش کی۔ اس طرح ایک لاکھ کے قریب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور سیاسی اپوزیشن کے قیدیوں کو اکیلے رہنے دیا گیا"۔

رکن پارلیمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ "ہم اس کو معافی کا نام نہیں دے سکتے ،،، یہ ایک بے رحمانہ استبدادی معاملہ تھا۔ یہاں تک کہ موجودہ قیدیوں کے اہل خانہ کو بھی نظر انداز کر کے انہیں اذیت میں مبتلا کیا گیا۔ کرونا وائرس کے احتیاطی اقدامات کے باعث یہ لوگ جیلوں میں ملاقات نہیں کر سکتے۔ اسی طرح ان گھرانوں کے افراد کو سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معافی سے دور رکھا گیا"۔

اولو نے واضح کیا کہ "اس معافی میں چوروں، اغوا کاروں اور مافیا کے لوگوں کو شامل کیا گیا۔ ان مجرموں نے معافی سے فائدہ اٹھایا۔ ان میں سے بعض نے تو رہائی کے بعد نئے جرائم کا بھی ارتکاب کیا اور پھر سے جیلوں میں واپس آ گئے ،،، تاہم سیاسی قیدی ابھی تک سلاخوں کے پیچھے سڑ رہے ہیں۔ ان میں ماں یا باپ ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ ہیں۔ ان کے علاوہ مریض اور عمر رسیدہ افراد بھی ہیں۔ وبا پھیلنے کے باوجود ان سب کو رحم کھائے بغیر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے"۔

ملک میں کرونا کی وبا کے پھیلاؤ کی روشنی میں قیدیوں کی حالت کے بارے میں اولو نے باور کرایا کہ "قیدیوں کو غذائی مواد کی قلت کا سامنا ہے۔ وبا کو روکنے کے لیے جیلوں کی کینٹینز بند ہیں۔ اس وجہ سے مریض قیدیوں کے لیے مختص کھانے کی بعض اشیاء دستیاب نہیں ، یہ ایک اجافی مشکل ہے جس کا بعض قیدیوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے"۔

انہوں نے بتایا کہ جیلوں کے ونگز میں ہجوم ہے۔ ان کے پہرے دار باہر افراد کے ساتھ اختلاط کرتے ہیں جن میں سے کوئی بھی شخص کرونا کا متاثرہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح یہ قیدیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ غذائی مواد کی قلت کے سبب قیدیوں کی قوت مدافعت کمزور ہے۔

یاد رہے کہ ترکی کی درجنوں جیلوں میں جن میں تین جیلیں ماردین، ازمیر اور سیلیوری میں ہیں اب تک کرونا کے سو سے زیادہ کیسوں کا اندراج ہو چکا ہے۔

ترکی کی وزارت انصاف نے گذشتہ ماہ کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ 5 کھلی جیلوں میں 17 قیدی کرونا سے متاثر ہوئے ہیں اور 3 موت کا شکار ہو چکے ہیں۔