.

قبرص کے پانیوں میں ترکی کی کھدائی کی کارروائیاں، یورپی یونین کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے قبرص کے ساحلوں کے مقابل گیس کی تلاش کے تنازع کے سلسلے میں ترکی کی نقل و حرکت کی مذمت کی ہے۔ جمعے کی شام جاری بیان میں انقرہ حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اختلافات میں "شدت" پیدا کر رہی ہے۔

یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے بارہا ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبرص کے ساحلوں کے مقابل گیس اور تیل کی تلاش کی کھدائی روک دے۔ اس طرح یورپی یونین کے رکن ملک قبرص کے اقتصادی زون میں مداخلت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

اس سے قبل رواں سال یورپی یونین نے کھدائی کی کارروائیوں میں شریک دو تُرک شہریوں کے اثاثے منجمد کر دیے اور ان دونوں کو اپنی اراضی میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود انقرہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔

یورپی یونین کے ممالک کے وزراء خارجہ نے جمعے کی شام جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ "ہمیں افسوس ہے کہ ترکی نے اس طرح کی سرگرمیاں روکنے کے حوالے سے یورپی یونین کی متعدد اپیلوں کا کوئی جواب نہیں دیا ... ہم ایک بار پھر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انقرہ حکومت اس نوعیت کے تصرفات سے دست بردار ہو جائے اور قبرص کی خود مختاری کا احترام کرے"۔

یورپی یونین کے وزراء خارجہ نے اس اختلاف کے حوالے سے مذاکرات کے لیے قبرص کی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی کے بحری جہاز "يافوز" نے اپریل کے اواخر سے قبرص کے ساحلوں کے مقابل کھدائی کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ ترکی کے وزیر توانائی فاتح دونماز نے جمعرات کے روز کہا کہ کھدائی کا کام ہر گز نہیں روکا جائے گا۔

یورپی یونین نے رواں سال جنوری میں ترکی کو کھدائی کی کارروائیوں کے حوالے سے متنبہ کیا تھا۔ اس سے قبل انقرہ حکومت نے جزیرے کے نزدیک اپنا کھدائی کا جہاز پہنچنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے یورپی یونین کے انتباہات کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر پناہ گزینوں کے کارڈ کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں تقریبا چالیس لاکھ پناہ گزین موجود ہیں جن میں اکثریت شامیوں کی ہے اور ان کے لیے یورپ کی سمت دروازہ کھولا جا سکتا ہے۔