.

کرونا وائرس: یو اے ای میں 706 نئے کیسوں اور چار اموات کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے ہفتے کے روز کرونا وائرس کے 796 نئے کیسوں اور چار اموات کی تصدیق کی ہے جبکہ اس مہلک وبا کا شکار مزید 603 مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔

یو اے ای کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں اب کووِڈ-19 کے کل کیسوں کی تعداد 22627 ہوگئی ہے اور ان میں سے 214 کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ 7931 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

دریں اثناء یو اے ای حکومت کی ترجمان ڈاکٹر آمنہ الضحاک الشمسی نے عوام پر زوردیا ہے کہ وہ آیندہ عیدالفطر کے موقع پر عوامی اجتماعات اور آپس میں گھلنے ملنے سے گریز کریں۔

انھوں نے کہا کہ '' عید سماجی تقریبات اور اجتماعات کا ایک موقع ہوتی ہے،ہم تمام خاندانوں کو یہ تجویز کرتے ہیں کہ وہ اس مرتبہ ان عادات سے گریز کریں۔''

انھوں نے کہا:'' تصور کریں کسی خاندان کا ایک فرد کرونا وائرس کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ اس نے بغیر جانے بوجھے ایک اور متاثرہ شخص سے ملاقات کی تھی۔اس میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔پھر وہ اپنے دادا سے ، بچوں سے اور خاندان کے دوسرے افراد سے ملتا ہے۔وہ حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کیے بغیر ان کے ساتھ دن گزارتا ہے تو اس طرح اس کے خاندان کے دوسرے افراد بھی کرونا وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔''

ترجمان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کرونا وائرس کے پھیلنے کی مزید وضاحت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ '' دن کے اختتام پر خاندان کا ہر فرد اس شخص کے گھر میں جائے گا۔وہ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ یہ شخص وبا سے متاثر ہوچکا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ان میں سے اس کے دوستوں کے پاس سے گزرے اور ان سے ہیلو ہائے کرے۔ پھر ان میں کوئی شخص عیدالفطر کی چھٹیوں کے بعد کام پر چلا جائے۔اس طرح تب تک 40 کیس 100 سے زیادہ کیس بن چکے ہوں گے۔ان خاندانوں کے افراد آگے مزید افراد کو متاثر کریں گے اور یوں سیکڑوں کیس ہزاروں میں تبدیل ہوجائیں گے۔''

الشمسی کا کہنا ہے کہ ''یہ تو ایک منظرنامہ ہے اور اسی میں دائمی امراض کا شکار افراد اور خاندان کے ضعیف العمر افراد میں کرنا کی علامات خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہیں۔اس کی سادہ سی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی ہوں گی اور کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بنیادی اصول کو اہمیت نہیں دی ہوگی اور وہ سماجی فاصلہ اختیار کرنا اور اجتماعات میں شرکت سے گریز ہے۔''