.

کیریبین کے سمندر میں الرٹ، امریکا کی نظر وینزویلا کے لیے ایرانی تیل پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ کیریبین (جزائر غرب الہند) کے علاقے میں آبی گزر گاہوں میں امریکا اور ایران کے درمیان چوکنے رہنے کی صورت حال دیکھی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایندھن سے بھرے ایرانی بحری جہاز کا پتہ چلانے کے بعد سامنے آئی ہے جو وینزویلا کی طرف گامزن ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب "نور" خبر رساں ایجنسی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ "اگر امریکا بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں امن و امان کی صورت حال بگاڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ خطرہ مول لے گا اور یقینا اس کے دور روس اثرات مرتب ہوں گے"۔ خبر رساں ایجنسی کا یہ بیان اُن رپورٹوں کے جواب میں آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز کیریبین کے علاقے کی جانب رواں دواں ہیں۔

با خبر ذرائع کے حوالے سے یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ امریکی بحریہ نے چار جنگی جہاز اور ایک بوئنگ P-8 Poseidon طیارہ کیریبین کے علاقے کی جانب بھیجا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو جمعرات کے روز بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کی جانب سے وینزویلا کو ایندھن کی کھیپ بھیجے جانے کے جواب میں اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ سمندری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ نے بدھ کے روز اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ایران کی بندرگاہ سے ایندھن بھرنے والا کم از کم ایک آئل ٹینکر وینزویلا کی سمت روانہ ہوا۔

واضح رہے کہ ایران اور وینزویلا میں تیل کے سیکٹروں کو امریکا کی سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ وینزویلا کو معیشت کی ابتری کی صورت حال میں روزانہ کی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے واسطے پٹرول اور دیگر ایندھن کی مصنوعات کی شدید ضرورت ہے۔

بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق وینزویلا میں حکام نے ایندھن کی وصولی کے عوض حلیف ملک ایران کے لیے اپنے سونے کے ذخائر کا منہ کھول دیا اور ٹنوں کے حساب سے اس خالص سنہری دھات کو ایران کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلومبرگ نے اس معاملے سے براہ راست مطلع افراد کے حوالے سے بتایا کہ وینزویلا میں سرکاری ذمے داران نے تقریبا 9 ٹن سونے کا ڈھیر لگا کر اسے رواں ماہ طیاروں کے ذریعے تہران پہنچایا۔ اس سونے کی مجموعی مالیت 50 کروڑ ڈالر کے برابر ہے۔ یہ سونا وینزویلا میں پٹرول کی ناکارہ ریفائنریز کو دوبارہ زندگی بخشنے کے سلسلے میں ایران کی مدد کے مقابل بطور ادائیگی بھیجا گیا ہے۔

مذکورہ حجم کے ساتھ سونے کی منتقلی نے اقتصادی بحران کے مارے ملک وینزویلا کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں یک دم کمی کر ڈالی۔ اس وقت ملکی خزانے میں نقدی کی صورت میں صرف 6.3 ارب ڈالر باقی رہ گئے ہیں۔ یہ گذشتہ تین دہائیوں میں نقدی کا کم ترین حجم ہے۔