.

تل ابیب: اسرائیل میں متعیّن چینی سفیر اپنے گھر میں مردہ پائے گئے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں متعیّن چینی سفیر ڈو وائی تل ابیب میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں اتوار کو مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے کہا ہے کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے لیکن ابتدائی تحقیقات میں کسی فاؤل پلے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

57 سالہ مسٹر ڈو کو فروری میں اسرائیل میں چین کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔اس سے پہلے وہ یوکرین میں چینی سفیر رہے تھے۔وہ شادی شدہ تھے اور ان کا ایک بیٹا ہے لیکن ان کی بیوی اور بیٹا ابھی چین ہی میں ہیں۔

متوفیٰ چینی سفیر تل ابیب سے 10 کلومیٹر شمال میں واقع ہرزلیہ میں ایک اپارٹمنٹ میں اکیلے رہ رہے تھے۔اسرائیلی پولیس کے ترجمان نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ’’ معمول کے طریق کار کے تحت پولیس یونٹ جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔‘‘

اسرائیل کے چینل 12 ٹی وی نے بے نامی طبی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ابتدائی اشاروں کے مطابق مسٹر ڈو کی وفات نیند کے دوران میں فطری وجوہ کی بنا پر ہوئی ہے۔

چینی حکام نے اپنے سفیر کی اچانک وفات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ مسٹر ڈو نے تل ابیب میں اپنے تقرر کے بعد سفارت خانے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین اور اسرائیل کے درمیان بہتر تعلقات کو سراہا تھا۔

وہ چینی سفیر کی حیثیت سے 15 فروری کو اسرائیل پہنچے تھے اور اپنی آمد کے بعد کرونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے پندرہ روز تک قرنطینہ میں رہے تھے۔

مسٹر ڈو نے اسرائیلی اخبار ماکور ریشن سے گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چین کوکرونا وائرس کے تعلق سے دنیا میں قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔تاریخ میں ایک سے زیادہ مرتبہ مخصوص لوگوں کے گروپ پر وبائی امراض کو پھیلانے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ بہت ہی شرم ناک ہے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔یہ بیماری پوری بنی نوع انسان کی دشمن ہے،دنیا کو اس کے خلاف مل جل کر کام کرنا چاہیے۔‘‘