.

امریکا کو ایرانی بحری جہازوں کو خطرات سے دوچار کرنے پر سخت وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے باضابطہ طور پر امریکا کو خبردار کیا ہے کہ عالمی پانیوں میں ایران کے بحری جہازوں یا کشتیوں سے چھیڑ چھاڑ کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

ایرانی خبر رساں ادارے 'مہر' نے اپنی حالیہ رپورٹ میں‌ بتایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ رابطوں کے لیے بالواسطہ نمائندگی کرنے والے سوئس سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے ان پر واضح کیا کہ اگر ایران اور وینزویلا کے درمیان تیل بردار جہازوں کی آمد ورفت کو چھیڑا گیا تو تہران پر اس خاموش نہیں رہے گا۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ وینزویلا اور ایران کے درمیان تجارتی آمد ورفت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس پر ایران سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس آراقچی نے سوئس سفیر کو گذشتہ روز ایک پیغام پہنچایا گیا جس میں‌ انہوں‌ نے امریکا کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی جہازوں کو چھیڑا گیا تو امریکا کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔

ہفتے کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کے مقرب ایک ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے وینزویلا کے لیے تیل کی سپلائی کرنے والے جہازوں پر حملے کی کوشش کی تو اسے بحری قذاقی تصور کیا جائے گا اور اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔

"نور" نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے خبردار کیا کہ اگر امریکی جنگی بحری جہاز کیریبین کی طرف روانہ ہوئے اور ایرانی جہازوں کو خطرے سے دوچار کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں امریکا کو بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

خیال رہے کہ حالیہ ایام میں ایران اور وینزویلا کے درمیان تیل کی تجارت اور سونے کی خرید وفروخت کے معاملے پر امریکا کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا نے اپنے چار بحری جنگی جہاز اور ایک بوئنگ 8 بی پوسیڈن جنگی طیارہ کیریبین کے علاقے کی طرف روانہ کیے ہیں۔ واشنگٹن، تہران کو اس پر عائد پابندیوں کے تناظر میں ایندھن کی برآمد سے روکنے کے لیے کوشاں ہے۔ وینزویلا، جو ایران کا اتحادی ہے، ایران سے وافرمقدار میں تیل کی خریداری کے لیے سرگرم ہے۔