.

برطانیہ : جڑواں بچیوں میں ایک کے کرونا سے متاثر ہونے اور دوسری کے نہ ہونے کا معمّہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں نیو پورٹ (ساؤتھ ویلز) میں ڈاکٹروں کی ٹیم پانچ ماہ کی دو جڑواں بچیوں کے حوالے سے حیرت کا شکار ہے۔ تفصیلات کے مطابق Royal Gwent ہسپتال کے ماہرین اس بات کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جڑواں شیر خوار بچیوں میں سے ایک بچی Leia تو شدید نوعیت کے کرونا وائرس کا شکار ہو گئی جب کہ ہرم دم اسی کے ساتھ رہنے والی دوسری بہن Thea مکمل طور پر صحت مند ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق لِیا سنگین نوعیت کے انفیکشن سے متاثر ہوئی اور اس پر ظاہر ہونے والی علامات بھی مختلف نوعیت کی ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی مِرر کے مطابق بچیوں کی 35 سالہ ماں Hannah Godwin نے گذشتہ ماہ اپنی ایک بیٹی لِیا کو بلند درجہ حرارت نوٹ کیا۔ ساتھ ہی بچی کے جسم پر الرجی کے واضح نشانات بھی موجود تھے۔ ماں نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جس پر پورے گھرانے کو نیو پورٹ شہر کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بچی کے تمام تر ٹیسٹوں اور معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ اس کے خون میں اینٹی باڈیز موجود ہیں۔ دیگر ٹیسٹوں سے تصدیق ہو گئی کہ یہ اینٹی باڈیز بچی کے سابقہ طور پر کرونا سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔ بعد ازاں بچی کو اس کی بہن کے ہمراہ کارڈف شہر میں بچوں کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

رواں ہفتے ڈاکٹرز دونوں جڑواں بہنوں کے جینیاتی ٹیسٹ کریں گے۔ ان کے علاوہ دیگر ٹیسٹ بھی کیے جائیں گے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ بچی لِیا کس بیماری میں مبتلا ہے۔