.

جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیوں معاف کیا؟توّکل کرمان صلاح خاشقجی پر پِل پَڑیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے تعلق رکھنے والی امن نوبل انعام یافتہ خاتون توّکل کرمان نے معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قاتلوں کو معاف کرنے پر ان کے بیٹے صلاح خاشقجی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جمال خاشقجی کو 18 اکتوبر 2018ء کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔جمعہ کو ان کے بیٹے صلاح نے ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’ میں اور میرے بھائیوں نے اپنے باپ کے (سزایافتہ) قاتلوں کو معاف کردیا ہے۔‘‘

سعودی عرب کے قانون کے تحت مقتول یا مظلوم کے خاندان کو مجرم کو معاف کرنے کا حق حاصل ہے۔اگر اس معافی کی توثیق کردی جائے تو پھر قاتل کو سزائے موت نہیں ہوسکتی۔

لیکن یمن کی نوبل انعام یافتہ توکل کرمان نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ '' صلاح کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے باپ کے قاتلوں کو یونہی معاف کردیتے۔''انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ صلاح خاشقجی نے یہ فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے کوئی مالی منفعت ملنے کے بعد کیا ہے۔ان کے بہ قول صلاح خاشقجی کو ایم بی ایس ( محمد بن سلمان) کی جانب سے ایک وِلا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ توکل کرمان ماضی میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں اور وہ مصر کی کالعدم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کی پرجوش حامی ہیں۔وہ ماضی میں یمن میں جماعت الاصلاح کی رکن رہ چکی ہیں۔یہ جماعت یمن میں الاخوان المسلمون کی شاخ سمجھی جاتی ہے۔

مصر ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بعض دوسرے ممالک نے الاخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔مصر نے اس کو کالعدم قرار دے کر اس کے سیکڑوں لیڈروں اور کارکنان کو گرفتار کر لیا تھا اور ان کے خلاف مختلف جرائم کے الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

خاشقجی کا مقدمۂ قتل

سعودی عرب کی ایک عدالت نے گذشتہ سال دسمبر میں پانچ افراد کو جمال خاشقجی کےقتل کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اور تین افراد کو مجموعی طور پر چوبیس سال قید کی سزا کا حکم دیا تھا۔

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق ان مجرموں کے خلاف عدالت میں قتل کے مقدمے کی سماعت کے وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور ترکی کے نمایندے موجود رہے تھے۔جمال خاشقجی کے بیٹے اور ان کے وکلاء بھی عدالت میں موجود ہوتے تھے۔

صلاح خاشقجی نے مقدمے کی کارروائی کے وقت کہا تھا کہ انھیں سعودی عدالتوں اور ان کے طریق کار کی شفافیت پر اعتماد ہے۔انھوں نے مقدمے کے فیصلے کے وقت ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ انھیں انصاف مل گیا ہے۔

رمضان المبارک میں سعودی عرب سمیت مسلم دنیا میں مجرموں کو متاثرہ خاندان یا مقتولین کے لواحقین کو معاف کرنے کی روایت عام ہے ہیں لیکن سعودی قانون کے مطابق متاثرہ خاندان سنگین جرائم کے مجرموں کی کڑی سزائیں تو معاف کرسکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے مرتکبہ جرائم سے بھی بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔انھیں پبلک قانون کے تحت سزا دی جاسکتی ہے۔

توّکل کرمان کا تقررتنازع کی زد میں

توّکل کرمان اس متنازع بیان سے قبل ایک اور تنازع کا بھی شکار ہوئی ہیں۔ انھیں اسی ہفتے سماجی روابط کی سب سے بڑی اور مقبول ویب گاہ فیس بُک نے اپ لوڈ کیے جانے والے مواد کی نگرانی کے لیے حال ہی میں قائم کردہ بورڈ کی رکن مقرر کیا تھا۔

اس نئے نظام کا مقصد فیس بُک اور انسٹاگرام کے مواد کی چھان بین ہے۔توکل کرمان نے اس تقرر کے بعد اپنے فیس بُک صفحہ پر لکھا تھا:’’مجھے فیس بُک اور انسٹاگرام کے عالمی نگراں بورڈ میں شمولیت پر خوشی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بدولت اب میڈیا اور اطلاعات پر حکومت کی اجارہ داری زیادہ دیر ممکن نہیں رہی ہے۔‘‘

لیکن ان کے خلاف ٹویٹر پر ’’فیس بُک خلافت‘‘ کے ہیش ٹیگ سے ٹرینڈ چلتا رہا ہے۔ٹویٹر کے بہت سے صارفین نے ایسے شواہد شئیر کیے تھے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمنی خاتون کا اس منصب پر تقرر ہرگز بھی مناسب نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’آزادیِ اظہار کو منافرت سے گڈ مڈ نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ بعض صارفین کے مطابق توکل کرمان خود انتہا پسند ہیں اور مسلح ملیشیاؤں کی حامی ہیں۔

یادرہے کہ توکل کرمان کو 2011ء میں یمن کے سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کو منظم کرنے میں قائدانہ کردار پر امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔انھیں یہ اعزاز ملنے کے بعد الاخوان المسلمون نے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں انھیں یمنی اخوان کی رکن قرار دیا گیا تھا۔اس پر انھیں کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔