.

ایران 360 عالمی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ذمہ دار ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے الزام عاید کیا ہے کہ ایرانی رجیم 40 سے زاید ممالک میں دہشت گردی کی 360 بڑی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہےکہ ایران میں ولایت فقیہ کے سیاسی نظام کے قیام بعد تہران عالمی سطح پر ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں میں ملوث رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی رجیم کی عالمی سطح پر دہشت گردی کی تین سو ساٹھ کارروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی رجیم کی جانب سے سمندر پار دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے قدس فورس کو استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ لبنانی حزب اللہ جیسے ایران کے پراکسی ایجنٹوں نے بھی تہران کے ایما پر عالمی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اپنے مجرمانہ اور دہشت گردانہ جرائم کو سفارتی پردوں میں چھپانے کی مذموم کوشش کررہا ہے۔ ایران نے سفارتی مشنوں کو اپنے جرائم پیشہ گینک اور دہشت گردی کی خفیہ کاروائیوں کے لیے استعمال کیا۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی رجیم نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہ نمائوں، مذہبی اور نسلی اقلیتوں اور غیرملکی حکومتوں کے عہدیداروں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے سنہ 1992ء کو ایرانی کرد اپوزیشن رہ نما صادق شرفکندی اوران کے تین ساتھیوں کو برلن کے ایک ہوٹل میں دہشت گردانہ کارروائی میں ہلاک کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایران کی سمندر پار دہشت گردی کی کارروائیوں میں سنہ 1994ء میں بوینس آئرس میں ایک یہودی عبادت گاہ آمیاہ میں بم دھماکے کی کارروائی بھی شامل ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں