.

چین کی بھارت کےساتھ بلندی پرواقع علاقے میں جھڑپیں، ائیربیس پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین بھارت کے ساتھ واقع بلند ترین سرحدی علاقے میں اپنے ایک ائیربیس کو توسیع دے رہا ہے۔لداخ کے نزدیک واقع اس علاقے میں چینی اور بھارتی افواج کے درمیان حالیہ دنوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

بھارت کے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ’’ خلائی سیارے سے لی گئی تصاویر سے بلندی پر واقع چین کے فضائی اڈے پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمی ظاہر ہورہی ہے۔یہ ہوائی اڈا پنگانگ جھیل سے دوسو کلومیٹر دور واقع ہے۔اسی جھیل پر چین اور بھارت کی مسلح افواج کے درمیان پانچ اور چھے مئی کو جھڑپیں ہوئی تھیں۔

بھارتی فوج کے ایک بیان کے مطابق دونوں ملک کے فوجیوں کے درمیان دھینگا مشتی ہوئی تھی اور انھوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد بھارتی اور چینی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

یہ پہاڑی درہ چینی تبت کے نزدیک واقع ہے اور تبت ہی میں واقع نگاری گنسا ہوائی اڈے پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔نگاری گنسا سطح سمندر سے 14022 فٹ بلندی پر واقع ہے اور چین اس کا ہوائی اڈا فوجی اور سول دونوں مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس ہوائی اڈے پر دوسرا ٹیکسی ٹریک اور ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں کو کھڑا کرنے کی جگہ تعمیر کی جارہی ہے ۔

ایک تصویر میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی فضائیہ کے چار لڑاکا جیٹ بھی ہوائی اڈے پر کھڑے دیکھے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان 1962 سے اس سرحدی علاقے میں کشیدگی چلی آرہی ہے۔ان کے درمیان شمال مشرق میں واقع ریاست اروناچل پردیش پر تنازع پر باقاعدہ جنگ لڑی گئی تھی۔