.

یورپ : کرونا کے بعد "حیاتیاتی دہشت گردی" کے اندیشے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی کونسل میں انسداد دہشت گردی کی کمیٹی میں شامل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد جماعتیں مستقبل میں ہتھیار کے طور پر وائرسز پھیلانے کا سہارا لے سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ کرونا وائرس اس نوعیت کی وباؤں سے نمٹنے میں "جدید معاشروں کی کمزوری" کو ظاہر کر چکا ہے۔

امریکا میں National Center for Biotechnology Information کے ماہرین کی ایک رپورٹ کا خلاصہ پیر کے روز یورپی کونسل کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایسا خیال کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ دہشت گرد جماعتیں اس سبق کو ضائع کر دیں گی کہ وائرس معاشروں میں شورش اور افراتفری کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دہشت گرد جماعتوں نے درحقیقت حیاتیاتی حملے کرنے کے حوالے سے اپنی صلاحیت اور قدرت کا تجربہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس وائرس ہتھیار کا استعمال "انتہائی کارگر" ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ روایتی دہشت گرد حملوں سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر انسانی اور اقتصادی نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹ میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے ہتھیار طویل عرصے کے لیے معاشروں کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ یہ بھرپور طور پر خوف اور عدم اعتماد کی فضا پھیلا سکتے ہیں۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق داعش تنظیم سے منسلک ایک تونسی باشندے نے دو سال قبل جرمنی میں حیاتیاتی حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم حکام اس منصوبے پر عمل درامد سے قبل اس تونسی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس طرح ملک میں حیاتیاتی ہتھیاروں سے حملے کی پہلی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

جرمن حکام امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد چوکنا ہو گئے۔ اطلاع کے مطابق تونسی باشندے سیف اللہ نے ارنڈ کے بیجوں کی بڑی تعداد آن لائن خرید کر ان سے انتہائی زہریلا مادہ Ricin تیار کر لیا۔ ایک ماہ قبل سیف اللہ کو 10 برس جیل کی سزا سنائی گئی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے دہشت گرد کارروائی کی تیاری کی جس پر عمل درامد 13 ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا سبب بن سکتا تھا۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ "تمام ممالک حیاتیاتی دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کے حوالے سے غیر محفوظ ہیں اور اس کے تباہ کن اثرات تیز رفتار ہیں ، یہ عالم گیر بن سکتے ہیں"۔

ماہرین کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ خطرات کا جواب زیادہ بڑے پیمانے پر بین الاقوامی رابطہ کاری سے دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یورپی یونین کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ "اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر انسانی اور مادی سائل کو حرکت میں لایا جائے" تا کہ ان ممکنہ خطرات کا راستہ روکا جا سکے۔