.

لیبیا فورسز بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں : یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے اعلی رابطہ کار جوزف بورل کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ایجنڈے میں لیبیا فورسز بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

منگل کے روز یورپی پارلیمںٹ کے ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے باور کرایا کہ دارالحکومت طرابلس کے اطراف شدید لڑائی کے سائے میں یورپی یونین لیبیا میں فائر بندی کی نگرانی کرنے والے شہری مشن میں شریک نہیں ہو سکتی۔

بورل کا کہنا تھا کہ "بم باری اور شہریوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری رہنے کے ساتھ کوئی بھی یہ کام انجام نہیں دے سکتا ... نہ یورپی یونین ، نہ اقوام متحدہ ، نہ افریقی یونین اور نہ عرب لیگ"۔

بورل نے باور کرایا کہ یورپی یونین کی فورسز کا بحری اور فضائی آپریشن IRINI لیبیا میں ہتھیاروں کی آمد کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گا۔

یورپی یونین کے ذمے دار نے اقرار کیا کہ لیبیا میں خشکی کے راستے ہتھیاروں کی اسمگلنگ پر قابو پانا نہایت پیچیدہ معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت اس آپریشن کے صرف ابتدائی تین ماہ کے اخراجات پورے کرنے کے امکانات ہیں۔

طرابلس میں جاری لڑائی کے حوالے سے بورل نے کہا کہ "ہم نے جنگجوؤں کو دیکھا کہ انہوں نے خود کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے ماسک پہن رکھے ہیں جب کہ وہ آتشی ہتھیاروں سے فائرنگ کے تبادلے میں مصروف ہوتے ہیں"۔