.

کرونا وائرس: سعودی عرب میں نجی شعبہ کے ملازمین کی دفاتر میں واپسی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ نجی شعبے کے ملازمین کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے دفاتر کو لوٹ سکتے ہیں۔

وزارت نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ نجی شعبہ وزارت صحت اور نگراں حکام کے اعلان کردہ پیشگی حفاظتی اقدامات اور تدابیر کی پیروی کرتے ہوئے اپنے کام کا آغاز کرسکتا ہے۔‘‘

اس نے مزید کہا ہے:’’ کمپنیوں کو جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں اپنے دفاتر کی تیاری کرنی چاہیے تاکہ ان کے ملازمین کی کام کے محفوظ ماحول میں واپسی ہوسکے۔‘‘

سعودی عرب کےانسانی وسائل اور سماجی ترقی کے وزیر احمد بن سلیمان الراجحی نے قبل ازیں ایک نشری تقریر میں سرکاری شعبے کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ '' دو ماہ کی بندش کے بعد اب کاروبار پر واپسی اور سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ معاشی پہیّا چلانے کے لیے یہ ایک لازمی عنصر ہے۔''

البتہ انھوں نے واضح کیا کہ '' کام پر واپسی اور سرگرمیوں کی بحالی کا یہ مطلب نہیں کہ حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ہم ملازمین کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر کا جائزہ لے رہے ہیں۔ہم نے ملازمین کے کام کی جگہوں پر جانے اور وہاں سے واپسی کے لیے ایک لچک دار نظام کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔''

سعودی عرب نے گذشتہ روز دو مراحل میں کرونا وائرس کے تعلق سے عاید کردہ پابندیوں میں نرمی ، بعض معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور’’معمول‘‘کی صورت حال کی بحالی کا بھی اعلان کیا تھا۔