.

سوڈان:معزول صدرعمرالبشیر کرونا کی علامات ظاہر ہونے کے بعد جیل سے اسپتال منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے معزول صدر عمر حسن البشیر کو کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد جیل سے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

سوڈان کے ایک میڈیا ادارے دابانجا نے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ عمر البشیر کے ساتھ جیل میں قید سابق سات اعلیٰ عہدے داروں کو بھی خرطوم میں ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ ان سب میں بھی کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں اور تین میں ان کی تصدیق ہوچکی ہے۔

دابانجا کے مطابق ان تمام افراد کو اپریل 2019ء میں عمر البشیر کی معزولی کے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ تب سے جیل میں ہیں۔ ان میں تین دائمی امراض کا شکار ہیں، تین میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ عمر البشیر اور ان کے ایک ساتھی میں کووِڈ-19 کی علامات پائی گئی ہیں لیکن ابھی ان کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔

اس خبری ذریعے نے لکھا ہے:'' پبلک پراسیکیوٹر نے بدھ کو ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سابق وزیر مملکت برائے انسانی امور اور سابق گورنر صوبہ شمالی کردوفان احمد ہارون ، سابق وزیر داخلہ ،دفاع اور خرطوم کے سابق گورنر عبدالرحیم حسین اور سابق وزیر خارجہ اور نائب صدر اول علی عثمان طہٰ کا کووِڈ-19 کا علاج کیا جارہا ہے۔''

جیل میں کرونا کا شکار

سوڈانی حکام نے گذشتہ روز یہ اطلاع دی تھی کہ مذکورہ عہدے داروں میں عثمان طہٰ ، ہارون اور حسین جیل میں کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔ یہ تینوں صدر عمر البشیر کی کالعدم جماعت نیشنل کانگریس پارٹی کے لیڈر رہے ہیں۔

عربی اخبار سوڈان ٹرائبیون نے الگ سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عمر البشیر نے جیل میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے سے انکار کردیا تھا۔

اس اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سابق صدر کے اس وقت ایک مشکل نفسیاتی صورت حال سے دوچار ہونے کی بھی افواہیں گردش کررہی ہیں۔

سوڈانی تجزیہ کاراور صحافی واصل علی ٹویٹر پر لکھتے ہیں کہ عمر البشیرجیل میں ڈیپریشن کا شکار ہیں۔ وہ اکثر وبیشترشدید غصے کی حالت میں دیکھے جاتے ہیں، جیل کے حکام سے درشتی سے پیش آتے ہیں اور بار بار اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ان سے ایک صدر کا سا سلوک کیا جائے۔